محبت ایک دو طرفہ معاملہ
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۲، صفحہ ۳
محبت ایک دو طرفہ معاملہ
ایک طویل روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس روایت کا ایک حصہ یہ ہے: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: واللہ لا يُلقي اللہ حبیبَہ فی النار (السلسلة الصحيحة للألباني، 5/531) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا کی قسم، اللہ اُس شخص کو آگ میں نہیں ڈالے گا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔
یہ حدیث کسی پُر اسرار معنی میں نہیں۔ اس حدیث میں جس محبت کا ذکر ہے، وہ دوطرفہ ہے، نہ کہ یک طرفہ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو انسان غور وفکر کے ذریعے اپنے خالق کو پہچانے، جو اللہ کو اپنے منعم کی حیثیت سے دریافت کرے، ایسے انسان کا حال یہ ہوگا کہ اللہ اس کا محبوب بن جائے گا، اُس کے تمام قلبی جذبات اللہ سے وابستہ ہو جائیں گے۔
جب کسی انسان کا یہ حال ہو کہ اس کے شعوری ادراک کے نتیجے میں اللہ اس کا محبوب بن جائے تو اس کے بعد ایسا انسان خود بھی اللہ کا محبوب بن جاتا ہے۔ اور جب اس اعتبار سے کوئی شخص اللہ کا محبوب بن جائے تو یہ محبوبیت اُس آدمی کے لیے اس بات کی ضمانت ہوگی کہ اللہ اُس کو قیامت کے دن ہرگز آگ میں نہیں ڈالے گا۔
کسی انسان کا محبوب خدا بن جانا کوئی پر اسرار چیز نہیں، یہ فطری اسباب کے تحت پیش آنے والا ایک واقعہ ہے۔ جب کوئی شخص اپنے آپ کو اللہ سے اتنا زیادہ وابستہ کرے کہ اللہ سے اُس کو محبت کے درجے میں تعلق پیدا ہو جائے، تو ایسا انسان، اللہ کی نظر میں اس کا مستحق بن جاتا ہے کہ اللہ اس کے ساتھ رحم کا معاملہ کرے اور اس کو آخرت کے عذاب سے بچا لے ۔
اللہ کا کسی انسان سے محبت کرنا بر بناء رحمت ہوتا ہے، اور انسان کا اللہ سے محبت کرنا بر بناء انعام ہوتا ہے۔ اللہ کی محبت کسی بندے کے لیے ایک عطیہ الہی ہے، اور بندے کی محبت اللہ کے لیے شکر واعتراف کا ایک معاملہ ہے۔ یہی شکر و اعتراف بلاشبہ جنت کی قیمت ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2012 All issues