قلب، عقل
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۲، صفحہ ۵
(قلب اور عقل) ہم معنی قرار پائیں گے۔
کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ قلب میں سوچنے کی صلاحیت ہے۔ وہ انسانی جسم کا ایک تفکیری عضو (thinking organ) ہے، مگر یہ صرف ایک مغالطہ ہے۔ اِس دعوے کی بنیادیہ ہے کہ عضویاتی مطالعے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قلب اور عقل کے درمیان ایک رابطہ موجود ہے۔
مگر یہ دعویٰ صرف ایک مغالطے پر مبنی ہے۔ اِس قسَم کا ربط دماغ اور دوسرے تمام اعضا کے درمیان ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ مگر یہ ربط فکری ربط نہیں ہوتا، وہ صرف ڈائریکشن (direction) کے معنی میں ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جسم کے تمام اعضا (organs) دماغ کی ہدایت (direction) ہی پر اپنا اپنا عمل انجام دیتے ہیں۔ کوئی بھی عضو دماغ سے آزاد ہو کر اپنا فنکشن انجام نہیں دیتا۔ اِس استدلال کی غلطی یہ ہے کہ اُس میں ربط کے معاملے کو بیان کرنے کے لیے ایک غلط لفظ استعمال کیا گیا ہے، یعنی کمیونیکیشن (communication) کا لفظ۔ اِس معاملے کو بیان کرنے کے لیے صحیح لفظ ڈائریکشن ہے، نہ کہ کمیونیکیشن ۔ دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ ڈائریکشن کا عمل یک طرفہ (unilateral) ہوتا ہے اور کمیونیکیشن کا عمل دوطرفہ (bilateral) ۔ ڈائریکشن کا لفظ بتاتا ہے کہ دماغ یک طرفہ طور پر اعضا کو اپنی ہدایت جاری کرتا ہے، جب کہ کمیونیکیشن کے لفظ کا مطلب یہ ہے کہ دماغ اور جسم کے اعضا کے درمیان یہ عمل دو طرفہ طورپر ہوتا ہے۔
مذکورہ استدلال میں یہ کیا گیا ہے کہ پہلے ربط کے لیے کمیونیکیشن کا لفظ استعمال کیا گیا اور پھر اُس سے یہ مطلب نکال لیا گیا کہ قلب ایک تفکیری عضو (thinking organ) ہے، حالاں کہ اِس مفروضہ کے لیے کوئی علمی بنیاد (scientific base) موجود نہیں۔
اِس غلطی کا عظیم نقصان یہ ہوا کہ حکمت (wisdom) اہلِ سائنس کی اجارہ داری بن گئی۔ مبنی بر قلب معرفت کے نظریے کے حاملین عام طور پر حکمت سے محروم ہو کر رہ گئے، کیوں کہ وہ حکمت کو قلب میں تلاش کر رہے تھے، جب کہ قلب میں حکمت سرے سے موجود ہی نہ تھی۔ اہلِ مذہب کے یہاں فرضی کہانیوں کا جو دفتر دکھائی دیتا ہے، اِس کا سبب حکمت کی اِسی کمی کی تلافی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2012 All issues