وحدتِ وجود
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۲، صفحہ ۶
وحدتِ وجود
شیخ محی الدین ابن العربی اندلس میں 560ھ میں پیدا ہوئے اور 638ھ میں دمشق میں وفات پائی۔ وہ صوفی کی حیثیت سے مشہور ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ: کان ظاهريا في العبادات، باطنيا في الاعتقاد (وہ عبادات میں ظاہری تھے اور عقیدہ میں باطنی تھے)۔ ان کے بارے میں امام ذہبی نے لکھا ہے کہ: قدوة القائلين بوحدة الوجود (وہ وحدۃ الوجود کے ماننے والوں کے پیشوا ہیں)۔ ابن العربی نے قرآن کی آیت: واعبد ربك حتى ياتيك اليقين (15:99) کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے: حتى يأتيك حق اليقين، منتهى عبادتك بانقضاء وجودك فيكون هذا العابد والمعبود جميعا لا غير۔ یعنی یہاں تک کہ تجھے حق الیقین حاصل ہو، اور تیرے وجود کے ختم ہونے سے تیری عبادت بھی ختم ہو جائے، پھر عابد و معبود سب ایک ہوں گے، غیر نہیں۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وحدۃ الوجود کا نظریہ کن بے بنیاد دلائل پر قائم کیا گیا ہے، قرآن کی آیت کی مذکورہ تفسیر جو ابن العربی نے کی ہے، وہ بلاشبہ ایک بے اصل تفسیر ہے، علمی اعتبار سے اُس کی کوئی حیثیت نہیں، یہ تفسیر بالرائے کی ایک بدترین قسم ہے۔ اس طرح کی تفسیر کو اگر درست سمجھا جائے تو اس سے ہر بات ثابت کی جاسکتی ہے، حتی کہ قرآن سے غیر قرآنی نظریہ بھی۔ وحدتِ وجود اصلاً ایک فلسفیانہ نظریہ ہے۔ فلسفیوں نے خدا اور موجودات کو ایک ثابت کرنے کے لئے وحدتِ وجود کا نظریہ پیش کیا۔ اس کو فلسفیانہ اصطلاح میں مانزم (Monism) کہا جاتا ہے۔ بعد کو یہ نظریہ آرین مذاہب میں داخل ہو گیا۔ اس کے بعد اکثر مسلم صوفیانے اس کو اختیار کرتے ہوئے اسلام میں داخل کر دیا۔ شیخ احمد سر ہندی بظاہر وحدتِ وجود کے خلاف تھے، مگر انھوں نے وحدتِ شہود کے نام سے جو نظریہ پیش کیا ہے، وہ بھی وحدتِ وجود ہی کی ایک بدلی ہوئی شکل ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ وحدتِ وجود (monism) کا نظریہ قرآن اور حدیث میں سرتاسر اجنبی ہے۔ وحدتِ وجود کا نظریہ ایک غیر اسلامی نظریہ ہے، وہ کوئی اسلامی نظریہ نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2012 All issues