Al-Risala · April 2012 · page 11

تاریخ کا سبق

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۲، صفحہ ۱۱

سلطان صلاح الدین ایوبی نے جو کچھ کیا، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، قومی حمیت یا شخصی حمیت کا معاملہ تھا، مگر قومی حمیت یا شخصی حمیت کا طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نہیں۔ رسول اللہ کا طریقہ حمیت خداوندی کا طریقہ ہے، نہ کہ قومی حمیت یا شخصی حمیت کا طریقہ۔ اس حمیت خداوندی کی ایک مثال یہ ہے کہ ہجرت (622ء) کے سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق دشمنوں کی نظر سے بچنے کے لیے غار ثور میں پناہ لئے ہوئے تھے۔ مگر دشمن آپ کو تلاش کرتے ہوئے غارِ ثور کے دہانے تک پہنچ گئے۔ حضرت ابوبکر نے دیکھا کہ وہ لوگ تلواریں لئے ہوئے غارِ ثور کے باہر کھڑے ہیں۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جواب دیا تھا، وہ قرآن میں ان الفاظ میں نقل ہوا ہے: لا تحزن، إن الله معنا (40 :9) یعنی تم غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کے معاملے میں مومن کا احساس کیا ہونا چاہیے۔ اس طرح کے معاملے میں مومن کو چاہئے کہ وہ اپنے عجز کے مقابلے میں اللہ کی قدرت کو دریافت کرے۔ وہ یہ یقین کرے کہ سارا اختیار اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اللہ دینے والا ہے، اور اللہ چھیننے والا۔ عزت بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ذلت بھی اللہ کے ہاتھ میں۔ سارا اختیار اللہ کو حاصل ہے۔ اختیار کے معاملے میں کوئی اس کا شریک نہیں۔

مومن پر فرض ہے کہ وہ پورے شعور کے ساتھ اس حقیقت کو جانے۔ ذاتی اعتبار سے اُس کا یقین اِسی عقیدے پر قائم ہو۔ اِسی کے ساتھ مومن پر یہ فرض ہے کہ جب بھی اس قسم کا کوئی وقت آئے تو وہ لوگوں کے سامنے اس حقیقت کی گواہی دے۔ وہ لوگوں کو بتائے کہ اللہ کے اختیار میں کوئی اس کا حصہ دار نہیں۔ اللہ کے اختیار میں کسی کو حصے دار ماننا شرک ہے، اور شرک ایک ایسا جرم ہے جو اللہ کے یہاں کسی حال میں قابل معافی نہیں (48 :4)۔ جس طرح اللہ کی قدرت میں کسی کو شریک ماننا ایک جرم ہے، اُسی طرح یہ بھی ایک جرم ہے کہ کسی مومن کے سامنے اس طرح کی صورت پیش آئے اور وہ لوگوں کے سامنے اس حقیقت کی گواہی نہ دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2012 All issues

Printed page