تاریخ کا سبق
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۲، صفحہ ۱۰
تاریخ کا سبق
نورالدین زنگی (وفات: 1174ء) مصر کے سلطان تھے۔ صلاح الدین ایوبی (وفات: 1193ء) اُن کے ایک فوجی افسر تھے۔ سلطان نورالدین زنگی کے انتقال کے بعد اگرچہ اُن کے بیٹے موجود تھے، لیکن صلاح الدین ایوبی نے حکومت پر قبضہ کر کے سلطان کا منصب حاصل کر لیا۔ تیسری صلیبی جنگ (Crusade) میں، جس کا زمانہ 1192-1189 عیسوی ہے، صلاح الدین ایوبی نے فاتحانہ رول ادا کیا تھا۔ اس زمانے کا ایک واقعہ یہ ہے کہ ایک مسیحی جنرل ریجی نالڈ (Reginald of Chatton) نے 1182 عیسوی میں ایک مسلم قافلے پر حملہ کر کے اس کو زیر کر لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اُس وقت ریجی نالڈ نے مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا: أين محمد كم لينقذكم (النوادر السلطانية والمحاسن اليوسفية لقاضی ابن شدّاد، صفحہ (64) یعنی تمھارے محمد کہاں ہیں کہ وہ تم کو بچائیں۔ بعد کو حطّین کی جنگ (1187ء) میں ریجی نالڈ کو صلاح الدین ایوبی کے مقابلے میں شکست ہوئی۔ ریجی نالڈ گرفتار ہو کر صلاح الدین کے کیمپ میں لایا گیا۔ اُس وقت صلاح الدین ایوبی نے ریجی نالڈ کو اُس کا قول یاد دلایا اور یہ کہہ کر اُس کو اپنی تلوار سے قتل کر دیا: ها أنا أنتصر لمحمد عليه الصلاة والسلام (النوادر السلطانية، صفحہ 64) یعنی یہ لو، میں محمد علیہ الصلاۃ والسلام کا انتقام لیتا ہوں۔
مسلم مورخین اِس واقعے کو سلطان صلاح الدین ایوبی کی دینی حمیت اور اس کی قوتِ ایمانی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ صحیح اسلامی شعور کے فقدان کا نتیجہ ہے۔ یہ موقع تھا، جب کہ صلاح الدین اور دوسرے مسلمان ریجی نالڈ کے سامنے اس بات کی گواہی دیتے کہ ہمارے دین کے معاملے میں تم غلط فہمی کا شکار ہو۔ تم سمجھتے ہو کہ ہم، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا مشکل کشا سمجھتے ہیں، حالاں کہ ہم، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف اپنا ہادی اور پیغمبر سمجھتے ہیں۔ ہمارے عقیدے کے مطابق، مشکل کشائی کا اختیار صرف اللہ رب العالمین کو ہے، نہ کہ محمد یا کسی اور شخصیت کو۔ پیغمبرانہ اسوہ کے مطابق، یہ وقت ریجی نالڈ کے سامنے حق کی گواہی دینے کا تھا، نہ کہ تلوار مار کر اس کو قتل کرنے کا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2012 All issues