Al-Risala · April 2012 · page 15

امتِ مسلمہ کے مسائل اور اُن کا حل

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۲، صفحہ ۱۵

امتِ مسلمہ کے مسائل اور اُن کا حل

جولائی 2011 میں ایک عرب ملک میں ایک عالمی کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں 76 ملکوں کے 222 نمائندے شریک ہوئے۔ کانفرنس کے شرکا میں مسلم علما کے علاوہ، عرب ملکوں کے اعلیٰ ذمے داران بھی شریک ہوئے۔ اس کانفرنس کا عنوان یہ تھا— عالمِ اسلام: دشواریاں اور حل : (The Muslim World: Issues and Solutions) العالم الإسلامي: المشكلات والحلول کانفرنس کے شرکا نے اپنے مقالات میں جو باتیں کہیں، رپورٹ کے مطابق، اس کا خلاصہ یہ تھا: ایک صاحب نے اپنے مقالے میں امتِ مسلمہ میں فرقہ وارانہ اختلافات کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ مسئلہ بہت زیادہ سنگین ہے، کیوں کہ اعداءِ اسلام کی طرف سے اس کا استحصال کیا جارہا ہے۔ اسی طرح مسلم حکومتوں سے درخواست کی گئی کہ سیاسی اختلافات کے لیے مذہب کو آلۂ کار نہ بنایا جائے ۔ اسی طرح ایک صاحب نے کہا کہ مسلمانوں میں امت ہونے کا تصور ختم ہو گیا ہے اور مسلمانوں نے علاقائیت کو اختیار کر لیا ہے، حالاں کہ مسلمانوں کے لیے باہمی رشتے کی بنیاد دین ہے، نہ کہ کوئی خطۂ زمین۔ ایک صاحب نے کہا کہ ہمارے فقہی ذخیرے میں عبادات پر تو بے شمار کتابیں ہیں، لیکن اسلام کے نظامِ سیاست پر محض چند کتابیں پائی جاتی ہیں۔ ضرورت ہے کہ اسلام کا باضابطہ مجموعۂ قوانین مرتب کیا جائے۔ اسی طرح ایک صاحب نے کہا کہ مسلم ممالک کا فریضہ ہے کہ وہ جدید صنعت و ٹکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھیں، ورنہ وہ دوسری قوموں کے محتاج ہو کر رہ جائیں گے، وغیرہ۔

یہ تمام باتیں اصل مسئلے کی نسبت سے، غیر متعلق (irrelevant) ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں، مسلم امت کا مسئلہ صرف ایک ہے، اور وہ یہ ہے کہ اس نے اپنے اصل منصبی فریضے کو چھوڑ دیا ہے، یہ دعوت الی اللہ کا فریضہ ہے۔ اس بنا پر موجودہ زمانے کے مسلمان نصرتِ الہی سے محروم ہو گئے ہیں۔ تمام مسائل دراصل اسی دعوتی غفلت کا نتیجہ ہیں۔ امتِ مسلمہ کے موجودہ مسائل کے حل کا نقطہ آغاز یہ ہے کہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 2012 All issues

Printed page