Al-Risala · April 2012 · page 16

امتِ مسلمہ کے مسائل اور اُن کا حل

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۲، صفحہ ۱۶

مسلمان دعوت الی اللہ کی اہمیت کو سمجھیں اور وہ اس کے لیے منصوبہ بند انداز میں عمل کریں۔ دعوت کا فریضہ ادا کرنے ہی سے امت کے مسائل حل ہوں گے، اس کے سوا، کوئی اور تدبیر امت کے مسائل کو حل کرنے والی نہیں ۔ دوسری تمام تدبیروں سے اُن کے مسائل میں صرف اضافہ ہوگا، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ دعوت کیا ہے۔ دعوت سادہ طور پر اعلان (announcement) کا نام نہیں۔ دعوت ایک انقلابی مشن ہے جو داعی کی پوری زندگی میں بھونچال کی طرح داخل ہوتا ہے اور اس کی زندگی کے ہر پہلو کو ایک نیا رخ دے دیتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان بہت سے مسائل سے دوچار ہیں۔ اس معاملے میں اصل سوال خود مسائل کی موجودگی کا نہیں ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ یہ مسائل کیوں پیدا ہوئے ۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ماضی میں مسلمانوں کی یہ حالت نہ تھی۔ یہ صرف موجودہ زمانے کی بات ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو ان مسائل میں مبتلا پا رہے ہیں۔ اس فرق کے مطالعے ہی میں اس سوال کا جواب ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے مسائل کا حل کیا ہے۔ اس معاملے میں قرآن کی ایک آیت ایک رہنما آیت کی حیثیت رکھتی ہے۔ قرآن کی سورہ الانفال میں قوموں کے عروج و زوال کا قانون ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ذلك بأن الله لم يك مغيراً نعمة أنعمها على قوم حتى يغيروا ما بأنفسهم (8:53)۔ ایک اور قرآنی آیت: وأما ما ينفع الناس فيمكث فى الأرض (13:17) کو شامل کرکے اس معاملے کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ دنیا میں عزت اور استحکام کا راز یہ ہے کہ قوم دوسروں کے لیے دینے والی (giver) بنی ہوئی ہو ۔ اس کے برعکس، جب کوئی قوم لینے والی (taker) بن جائے تو اس کو عزت و استحکام حاصل نہیں رہتا۔ دور اول کے مسلمان، دعوت کے تصور پر کھڑے ہوئے تھے، یعنی وہ دنیا کو زندگی کی بہتر آئیڈیالوجی دے رہے تھے۔ اس لیے ان کو قوموں کے درمیان عزت و وقار کا درجہ حاصل تھا۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے نفع بخشی کی یہ حیثیت کھودی ہے۔ اب اُن کے پاس صرف شکایت اور احتجاج کی زبان ہے۔ مسلمان صرف یہ اعلان کر رہے ہیں کہ دنیا ہم کو ہمارے حقوق نہیں دے رہی ہے۔ اور فطرت کا یہ قانون ہے کہ جو قوم نفع بخشی کی صلاحیت کھودے، اس کو کبھی عزت و وقار کا درجہ نہ ملے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2012 All issues

Printed page