Al-Risala · April 2012 · page 17

امتِ مسلمہ کے مسائل اور اُن کا حل

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۲، صفحہ ۱۷

دورِ قدیم کے مسلمانوں کی نفع بخشی کا اعتراف مورخین نے عام طور پر کیا ہے۔ مثلاً پنڈت جواہر لال نہرو نے لکھا ہے کہ عرب جب انڈیا میں آئے تو انھوں نے انڈیا کا ایک شان دار کلچر (brilliant culture) دیا۔ سوامی وویکانند نے اعتراف کیا ہے کہ انڈیا کو مسلمانوں سے مساوات کا تحفہ ملا۔ بر یفالٹ (Briffault) نے اعتراف کیا ہے کہ قرون وسطی میں مسلمانوں نے جو علمی ترقیاں کیں، اُس سے مغرب کی جدید سائنس وجود میں آئی۔

قدیم زمانے کے مسلمانوں میں نفع بخشی کی یہ صلاحیت کیسے پیدا ہوئی۔ اس کا اصل راز یہ تھا کہ وہ دینِ توحید کے مبلغ بن گئے۔ توحید کا تصور ایک انقلابی تصور تھا۔ اس تصور نے اُن کو ایک ایسی آئیڈیا لوجی دی جس کی ضرورت تمام دنیا کو تھی۔ توحید کی آئیڈیا لوجی نے مسلمانوں میں بیداری کی ایک نئی لہر پیدا کر دی۔ وہ زندگی کے ہر میدان میں عزم و حوصلے کے ساتھ داخل ہو گئے۔ اُن کو یقین تھا کہ ان کے پاس دنیا کو دینے کے لیے وہ چیز ہے جو دنیا کے پاس نہیں ہے۔ اس یقین نے اُن کے اندر ایک تسخیری شخصیت پیدا کر دی۔ اس یقین کے فکری نتیجے کے طور پر ان کی تمام فکری اور عملی صلاحیتیں جاگ اٹھیں۔ دورِ اول کے مسلمانوں اور موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے درمیان اصل فرق یہی ہے۔ جب تک یہ فرق دور نہ کیا جائے، اُس وقت تک موجودہ صورتِ حال بدلنے والی نہیں۔ یہی وہ فطری حقیقت ہے جس کو امام مالک نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا: لا يصلح آخر هذه الأمة إلا ما أصلح أوله (مسند الموطأ : رقم: (783) یعنی اِس امت کے آخری دور کے معاملات بھی اُسی طرح درست ہوں گے جس طرح دورِ اول کے مسلمانوں کے معاملات درست ہوئے تھے۔ خلاصہ یہ کہ اگر کسی فرد یا گروہ کو احساس یہ ہو کہ اس کے پاس دوسروں کو دینے کے لیے کوئی چیز ہے تو یہ احساس اس کے لیے ایک انقلابی واقعہ بن جائے گا۔ یہ احساس اس کی تمام صلاحیتوں کو جگا دیتا ہے۔ اس کے اندر بے پناہ عزم پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ زندگی کے ہر میدان میں حوصلے کے ساتھ داخل ہو جاتا ہے۔ وہ اس کا انتظار نہیں کرتا کہ دوسرے لوگ اس کے مسائل کو حل کریں۔ وہ خود اپنی ذاتی جدوجہد سے اپنے تمام مسائل کو حل کر ڈالتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2012 All issues

Printed page