Al-Risala · April 2012 · page 20

امت مسلمہ کا المیہ

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۲، صفحہ ۲۰

امت مسلمہ کے اندر تلوار کا داخل ہونا کیا ہے۔ یہ دراصل تاریخی اسباب کے تحت پیش آنے والا ایک واقعہ ہے۔ اسلام کے ابتدائی تیرہ سالہ دور کو مکی دور کہا جاتا ہے۔ اس دور میں اسلام کا جو ماڈل بنا، وہ پوزیشن آف ماڈسٹی (position of modesty) پر مبنی ایک ماڈل تھا۔

مدنی دور کے بعد، اسلامی تاریخ کا جو دور آیا، وہ تقریباً ہزار سال تک جاری رہا۔ اسی بعد کے دور میں، اسلام کا کتب خانہ وجود میں آیا۔ وہ چیز جس کو مسلم فکر کہا جاتا ہے، وہ تمام تر اس بعد کے دور میں بنا جو کہ پوزیشن آف اسٹرینتھ (position of strength) کا دور تھا۔

مکی دور میں جو حالات تھے، اس کے مطابق، اُس زمانے کا مسلم فکر تمام تر صبر پر مبنی تھا۔ اُس زمانے کے مسلمان، اپنے حالات کے مطابق، امن کی اصطلاحوں میں سوچتے تھے، نہ کہ جنگ کی اصطلاحوں میں۔ اُس زمانے میں، مسلمانوں کے اندر دعوت کا چرچا تھا، نہ کہ جہاد کا چرچا۔ اُس زمانے کے مسلمان ترغیب (persuasion) میں یقین رکھتے تھے، نہ کہ نفاذ (implementation) میں۔ اُس زمانے کے مسلمان دوسروں کو عدو کی نظر سے دیکھتے تھے، نہ کہ حریف (rival) کی نظر سے۔

اس قسم کی صفات کے نتیجے میں اُس زمانے کے مسلمانوں کے اندر جو ذہن بنا، وہ تمام تر داعیانہ ذہن تھا۔ سیکولر اصطلاح میں، اس ذہن کو ایک غیر سیاسی ذہن (non-political mind) کہا جاسکتا ہے۔ اس کے برعکس، پوزیشن آف اسٹرینتھ کے دور میں جو ذہن بنا، وہ ہر اعتبار سے، مذکورہ ذہن سے مختلف تھا۔ بعد کے دور میں جو اسلامی لٹریچر تیار ہوا، اس میں صبر کو منسوخ سمجھ لیا گیا۔ تالیف قلب ایک غیر ضروری روش قرار پائی۔ اب غیر مسلموں کے لیے” کفار‘‘ کی اصطلاح استعمال ہونے لگی۔ مسلمان یہ سمجھنے لگے کہ مسلم علاقہ دار الاسلام ہے اور غیر مسلم علاقہ دار الكفر یا دار الحرب۔ اب یہ ذہن بن گیا کہ ہم کو پر امن دعوت دینے کی ضرورت نہیں، حاکمانہ طاقت کے زور پر ہم، لوگوں سے اپنی بات منوا سکتے ہیں۔ اب یہ سمجھا جانے لگا کہ مسلمان خیر امت ہیں اور دوسرے لوگ کافرانہ امت۔ اسی دور میں ایک عرب شاعر نے مسلم دبدبے کو ان الفاظ میں بیان کیا تھا کہ جہاں دوسرے لوگ ایک فوج بھیجتے ہیں، وہاں ہم صرف ایک خط بھیج دیتے ہیں: إذا ما أرسل الأمراء جيشاً إلی الأعداء، أرسلنا الكتابا

‹ Previous page Next page › Contents of April 2012 All issues

Printed page