امت مسلمہ کا المیہ
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۲، صفحہ ۲۱
ہزار سالہ اقتدار کے دور میں یہی چیزیں مسلمانوں کے ذہن مکی تشکیل کرتی رہیں۔ یہ فکر نسل در نسل چلتا رہا، یہاں تک کہ پوزیشن آف اسٹرنتھ کے تصور کے تحت پوری امت مسلمہ کی کنڈیشننگ ہوگئی۔ تمام دنیا کے مسلمان اسی انداز پر سوچنے لگے۔ کسی اور انداز پر سوچنا ان کے لیے ناممکن ہو گیا۔ اٹھارھویں صدی کے خاتمے کے ساتھ مسلم امت کے لیے پوزیشن آف اسٹرنتھ کا دور ختم ہو گیا۔ اب ساری دنیا میں مسلم ایمپائر کے بجائے، مغربی ایمپائر قائم ہو گیا۔ مسلم تہذیب کی جگہ مغربی تہذیب کو ساری مسلم دنیا میں غلبہ حاصل ہو گیا۔ مسلمانوں کی شوکت ختم ہوگئی اور غیر مسلموں کی شوکت ہر جگہ قائم ہوگئی۔ یہ وقت مسلم رہنماؤں کے لیے سخت امتحان کا وقت تھا۔ مسلم رہنماؤں کو چاہیے تھا کہ وہ تاریخ کے فیصلے کو سمجھیں اور مسلمانوں کو مشورہ دیں کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ تم کی ماڈل کی طرف لوٹو، یعنی پوزیشن آف ماڈسٹی کے ماڈل کی طرف۔ لیکن مسلم رہنماؤں نے اس کے برعکس، یہ کیا کہ انھوں نے "تحفظ ملت" کے نام پر مسلمانوں کو ابھارا کہ وہ پوزیشن آف اسٹرنتھ کی حالت کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے مفروضہ ظالموں کے خلاف جنگ چھیڑ دیں۔ مسلمانوں کے اندر یہ غیر دانش مندانہ جنگ تقریباً دو سو سال سے جاری ہے— اب آخری وقت آگیا ہے کہ مسلمان اپنی اس تباہ کن روش کو بدلیں۔ وہ حقائق کی بنیاد پر اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کریں۔ اس کے سوا، کوئی بھی دوسرا راستہ اُن کو کامیابی تک پہنچانے والا نہیں۔ مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز کتابیں اور ماہ نامہ الرسالہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں: Md. Yusuf C/O Alia Hardware Opp. City Post Office, Main Road, Motihari East Champaran-845401, Bihar بنگلور میں مولانا وحید الدین خاں کی اردو، ہندی اور انگریزی کتابیں، قرآن مجید کے ترجمے، دعوتی لٹریچر اور ماہ نامہ الرسالہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں: Centre for Peace, Bangalore Tel. 080-22239121, Mob. 09886243194 Email.: thecentreforpeace@gmail.com
‹ Previous page Next page › Contents of April 2012 All issues