Al-Risala · April 2012 · page 35

'انا' کی دیوار

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۲، صفحہ ۳۵

سوال و جواب سوال ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے دعوت کے موضوع پر گفتگو ہوئی ۔ انھوں نے اس سے عدم اتفاق ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ غیر مسلموں کو دعوت دینے کا کوئی فائدہ نہیں ، کیوں کہ قرآن میں صاف طور پر آیا ہے کہ: إنّ الذين كفروا سواء عليهم أأنذرتهم أم لم تنذر هم لا يؤمنون (2:6) یعنی جن لوگوں نے کفر کیا ، اُن کے لیے یکساں ہے، تم اُن کو ڈراؤ یا نہ ڈراؤ، وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ براہِ کرم، اس سوال کی وضاحت فرمائیں (شارق حسین، نئی دہلی)

جواب

قرآن کی اس آیت کا تعلق عمومی معنوں میں دعوت الی اللہ سے نہیں۔ اُس کا تعلق اصلاً صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے معاصر (contemporary) ایک گروہ سے ہے جس کے اوپر پیغمبر اسلام نے لمبی مدت تک دعوتی جدوجہد کی ، اس کے باوجود وہ لوگ انکار کی روش پر قائم رہے۔ اس آیت کا تعلق منصوبۂ دعوت سے نہیں ہے، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک تہدیدی اعلان ہے۔ اس آیت سے برعکس طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر گر وہ پر لازماً دعوت کا عمل کیا جائے گا ۔ اس کو کسی بھی حال میں بند نہیں کیا جائے گا۔ یہ اللہ کا معاملہ ہے کہ وہ اس گروہ کو ایمان کی توفیق دے یا نہ دے۔ دعوت، اہلِ ایمان کی ذمے داری ہے اور مدعو کو قبول حق کی توفیق دینا اللہ کا کام۔ قرآن کی اس آیت کے نزول کے باوجود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ گروہ کے درمیان دعوت کا کام بند نہیں کیا، بلکہ آپ نے اس کو بدستور جاری رکھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ دعوت الی اللہ کا کام ہر حال میں جاری رکھا جائے گا، حتیٰ کہ ایسے گروہ پر بھی جو علمِ الہی کے مطابق ، اُس کو قبول کرنے والا نہ ہو۔ داعی کا کام صرف پیغام پہنچانا ہے۔ داعی کو یہ حق نہیں کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ مخاطب اس کی بات کو قبول کرے گا یا وہ اس کو قبول نہیں کرے گا۔ دوسری جگہ قرآن میں یہ آیت آئی ہے: فذكر إنما أنت مذكر، لست عليهم بمصيطر إلا من تولّى وكفر، فيعذبه الله العذاب الأكبر (24-21: 88)۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2012 All issues

Printed page