'انا' کی دیوار
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۲، صفحہ ۳۶
اس آیت سے معلوم ہوا کہ داعی کی ذمے داری صرف یہ ہے کہ وہ آخر وقت تک اپنا پیغام لوگوں تک پہنچاتا رہے۔ جہاں تک نتیجہ (result) کا تعلق ہے، وہ اس کو مکمل طور پر اللہ کے حوالے کر دے۔ سوال اہلِ کتاب خصوصاً نصاریٰ سے متعلق یہ سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ موجودہ دور کے عیسائی بغیر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے نجات اُخروی کے مستحق ہیں یا نہیں۔ کیا ان کے لیے اللہ کی نازل کردہ کتاب انجیل مقدس کافی نہیں ہے۔ اُخروی نجات کا معاملہ تو خدا اور بندہ کا پرسنل معاملہ ہے، اور اس کے لیے خدائے واحد کو ماننا، آخرت پر ایمان رکھنا اور عمل صالح کرنا کافی ہے، جیسا کہ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے: ان الذين آمنوا والذين هادوا والنصاری والصابئين من آمن بالله واليوم الآخر وعمل صالحا فلهم أجرهم عند ربهم ولا خوف عليهم ولا هم يحزنون (62: 2)۔ قرآن مجید میں ایک جگہ اللہ نے اہلِ انجیل کو انجیل کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے: وليحكم أهل الانجيل بما أنزل الله فيه، ومن لم يحكم بما أنزل الله فاولئك هم الفاسقون (47: 5)۔ وضاحت فرمائیں (محمد سمیع اللہ، ممبئی)
جواب
1- اس سوال کے سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ یہ طرزِ فکر اپنے آپ میں درست نہیں۔ "نجاتِ اُخروی" کا مستحق کون ہے، اس کا علم صرف خدا کو ہے۔ کوئی بھی شخص اگر اس معاملے میں اپنی رائے دیتا ہے تو وہ ایک ایسے دائرے میں داخل ہوتا ہے جس میں داخل ہونے کا سرے سے اس کو کوئی حق حاصل نہیں۔ ہمارا کام صرف دعوت دینا ہے، نہ کہ اس سوال پر رائے زنی کرنا کہ نجات اُخروی کا مستحق کون ہے۔ اس معاملے میں قرآن اور حدیث میں واضح ہدایات موجود ہیں۔ مثلاً اس سلسلے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وما أدري ما يفعل بي ولا بكم (46: 9) یعنی میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا اور تمھارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ یہی بات ایک حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں آئی ہے: و اللہ ما أدري، وأنا رسول الله، ما يفعل بي ولا بكم (صحيح البخاري، رقم الحديث: 7018)
‹ Previous page Next page › Contents of April 2012 All issues