کوثر_خیر کثیر
الرسالہ، جون ۲۰۱۲
کوثر_خیر کثیر
قرآن کی سورہ الکوثر (108) کا ترجمہ یہ ہے: ’’ہم نے تم کو کوثر دے دیا۔ پس تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ بے شک تمھارا دشمن ہی بے نام ونشان ہے۔ ‘‘ کوثر مبالغے کا صیغہ ہے۔ اس کا مطلب ہے_ خیر کثیر۔ خیر کثیر سے کیا مراد ہے، اس کی وضاحت قرآن کی دوسری آیت سے ہوتی ہے۔ قرآن کی سورہ البقرہ میں یہ آیت آئی ہے: يؤتي الحكمة من يشاء، ومن يؤت الحكمة فقد أوتى خيرا كثيرا وما يذكر إلا أولوا الألباب (2: 269) یعنی اللہ جس کو چاہتا ہے، اُس کو حکمت عطا کرتا ہے، اور جس کو حکمت دی گئی، اُس کو خیر کثیر دے دیا گیا۔ اور نصیحت وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔ قرآن کی اس آیت میں حکمت سے مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن کے دوسرے مقام پر معرفت یا عرفانِ حق (5: 83) کہا گیا ہے۔ معرفت کا تعلق عقلی دریافت سے ہے اور یہ معرفت بلا شبہ کسی مومن کے لیے سب سے بڑی چیز ہے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت اہلِ مکہ یا اہلِ عرب کے درمیان اگرچہ مذہب کے نام پر مختلف قسّم کے مذہبی رسوم (religious rites) موجود تھے، مگر وہ لوگ خدا کی سچی معرفت سے کامل طور پر محروم تھے۔ ایسے ماحول میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبرِ اسلام کو سچی معرفت عطا فرمائی۔ اس کا ذکر قرآن کی دوسری آیت میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: ووجدك ضالاً فهدى (7: 93)۔
سورہ الکوثر میں صلٰوة اور نحر کے الفاظ علامتی طور پر آئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مخالفین کے پروپیگنڈے کو نظر انداز کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ اللہ سے تعلق قائم کرو، تا کہ شکر کا جذبہ پوری طرح برقرار رہے۔ ’’نحر‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ جو دعوتی مشن تم کو دیا گیا ہے، قربانی کی سطح پر تم اس مشن کو جاری رکھو۔ مخالفین کی مخالفت تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گی، وہ خود ناکام و نامراد ہو کر رہ جائیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2012 All issues