Al-Risala · June 2012 · page

نماز میں خشوع

الرسالہ، جون ۲۰۱۲

نماز میں خشوع

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ فلاح اُن اہلِ ایمان کے لیے ہے جو خشوع کے ساتھ اپنی نماز ادا کرتے ہیں (23: خشوع کا لفظی مطلب فروتنی ہے، یعنی وہ حالت جو مُحاسب ومجازی خدا کی یاد سے پیدا ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی دوسری آیت یہ ہے: الذین یظنون أنهم ملقوا ربهم (2:46)۔ اس سے معلوم ہوا کہ لقاء رب کے شدید تصور سے انسان کے دل میں جو کیفیت پیدا ہوتی ہے، اُسی کا نام خشوع ہے۔ نماز میں خشوع یہ ہے کہ آدمی شعوری طور پر اتنا زیادہ بیدار ہو کہ جب وہ نماز کے کلمات اپنی زبان سے ادا کرے تو ان کلمات کا مفہوم اُس کے ذہن کو متحرک کرتا رہے۔ اس کے اعضا نماز کے ظاہری افعال کو ادا کر رہے ہوں اور اس کا ذہن خدا کے سامنے حاضری کو سوچ کر اندیشہ ناک بنا ہوا ہو، حتی کہ یہ کیفیت اتنی زیادہ شدید ہو کہ اس کے بدن پر خوف سے کپکپی طاری ہو جائے ۔ اس کیفیت کو حاصل کرنے کے لیے شدید محنت درکار ہوتی ہے، اس لیے نماز کے ساتھ صبر کو شامل کیا گیا ہے (2:45)۔ ایک فارسی شاعر نے کہا۔ رات کو جب میں نماز کی نیت کرکے کھڑا ہوا تو دل میں بار بار یہ خیال آ رہا تھا کہ میرا بچہ صبح کو کیا کھائے گا:

شب چو عقد نماز بر بندم چه خور د بامداد فر زندم

یہ شعر تمثیل کی زبان میں بتا رہا ہے کہ خشوع کی نماز ادا کرنے کے لیے کیا چیز درکار ہے، وہ یہ کہ آدمی کا ذہن کسی اور سوچ میں مبتلا نہ ہو، اپنی سوچ کے اعتبار سے، وہ پوری طرح لقاء رب پر فوکس کئے ہوئے ہو۔ تجربہ بتاتا ہے کہ ذہنی فوکس کو ہٹانے والی سب سے طاقت ور چیز منفی سوچ ہے۔ اجتماعی زندگی میں بار بار منفی تجربات پیش آتے ہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ صبر کی روش اختیار کرتے ہوئے کامل طور پر اپنے آپ کو منفی احساس سے بچائے۔ خشوع کی نماز پڑھنا صرف اُس کے لیے ممکن ہے جو نماز سے پہلے اپنے اندر مثبت سوچ پیدا کر چکا ہو۔ اور ایسا صرف اُس وقت ہو سکتا ہے، جب کہ آدمی اپنے اندر یہ صابرانہ نفسیات پیدا کر لے کہ وہ منفی تجربات کے باوجود اپنے آپ کو مثبت روش پر قائم رکھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2012 All issues

Printed page