وسیلہ کی حقیقت
الرسالہ، جون ۲۰۱۲
کی مزید وضاحت ہے: والفضیلۃ تفسيراً للوسيلة (فتح الباري، 2/113)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدایا! تو محمد کو قربت کا درجہ دے، جو کہ فضیلت کا ایک درجہ ہے۔
3- عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ وسیلہ سے مراد سفارش (recommendation) ہے، یعنی قیامت میں لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش سے جنت اور مغفرت حاصل ہوگی۔ وسیلہ کا یہ مفہوم ایک خود ساختہ مفہوم ہے، وہ لفظی طور پر کسی روایت میں موجود نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مغفرت تمام تر اللہ کا ایک عطیہ ہے۔ قرآن اور حدیث دونوں اس بارے میں واضح ہدایات موجود ہیں۔ 4- روایت میں حلت لہ الشفاعة کے الفاظ آئے ہیں، یعنی اس کے لیے شفاعت واجب ہوگئی۔ یہاں شفاعت سے مراد سفارش نہیں ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ایسا آدمی اپنے عمل کی بنا پر اس قابل ہوگیا کہ رسول اللہ اس کو پہچانیں اور قیامت میں اس کو اپنی امت کا ایک فرد شمار کریں۔ 5- شفاعت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایک شخص جو اپنے عمل کے اعتبار سے جنتی نہ ہو، وہ پیغمبر کی سفارش سے جنتی بن جائے گا۔ اصل یہ ہے کہ قیامت کے دن کسی انسان کے اخروی مستقبل کا فیصلہ تمام تر اللہ کی مرضی سے ہوگا، لیکن اُس کے اعلان کا طریقہ یہ ہوگا کہ انبیاء اور دُعاۃ کو بلند مقام (اعراف) پر کھڑا کیا جائے گا۔ انھوں نے جن لوگوں کے اوپر دعوت و شہادت کا کام کیا ہوگا، وہ اُن کو قیامت کے دن صاف طور پر پہچان لیں گے اور ہر ایک کے لیے اللہ کے فیصلے کا اعلان کریں گے۔ 6- وسیلہ (قربت) کوئی پر اسرار چیز نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ تعلق باللہ کے دو درجے ہیں۔ ایک درجہ اطاعت، اور دوسرا درجہ قربت۔ مومن کو چاہئے کہ وہ درجہ قربت میں اللہ سے تعلق قائم کرے، اور اسی اعلیٰ درجہ قربت کے لیے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں دعا کرے۔ اس دعا کا کوئی تعلق سفارش کے خود ساختہ نظریے سے نہیں۔
7- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دعا و صلاۃ کا معاملہ کوئی پر اسرار معاملہ نہیں۔ وہ صرف اظہارِ تعلق کی ایک صورت ہے۔ ایک انسان جو سچائی کا طالب ہو، لمبی جستجو کے بعد جب اس کو پیغمبر اسلام کے ذریعے ہدایت ملے تو فطری طور پر ایسا ہوگا کہ اس کو پیغمبر اسلام سے قلبی تعلق ہو جائے گا اور وہ اس تعلق کا
‹ Previous page Next page › Contents of June 2012 All issues