Al-Risala · June 2012 · page

وسیلہ کی حقیقت

الرسالہ، جون ۲۰۱۲

اعتراف الفاظ کی صورت میں کرے گا۔ اسی اعتراف کا دوسرا نام درود و صلاة ہے۔

8- حدیثوں کی نوعیت زیادہ تر یہ ہے کہ کوئی واقعہ گزرا تو اُس کی نسبت سے آپ نے لوگوں کو ایک اسلامی تعلیم بتادی۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ کسی موقع پر جب مسجد سے اذان کی آواز آئی تو اُس وقت آپ کے پاس جو لوگ موجود تھے ، اُن سے آپ نے مذکورہ بات فرمائی۔ آپ کے اس قول کا مطلب یہ تھا کہ موذن کے کلمات کو سننے والا بھی اُسی طرح دہرائے۔ اُس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ سننے والا مسجد میں حاضر ہو اور نماز کے ذریعے وہ قربت الہی (19: 96) کا تجربہ کرے ۔ اس طرح اس کے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اعلیٰ اعتراف کا جذبہ پیدا ہو، جن کے ذریعے عبادت کا یہ نظام اور دوسری تعلیمات الہیہ حاصل ہوئیں ۔ اسی جذبۂ اعتراف کا یہ اظہار ہے کہ مومن یہ کہے کہ خدایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قربت کا درجہ عطا فرما اور آپ کو جنت کے اعلیٰ مقامات پر فائز فرما۔ 9- حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ "جو میرے لیے ایک بار دعا کرتا ہے، اللہ اُس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے۔ " حدیث کے یہ الفاظ دُرود“ کی کسی علاحدہ خصوصیت کو نہیں بتا رہے ہیں۔ وہ ایک عام سنتِ الہی کو بتا رہے ہیں، جیسا کہ ایک اور روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی سنت یہ ہے کہ وہ کسی عمل کا کم از کم دس گنا اجر دیتا ہے اور عمل کی کیفیاتی قدر کے مطابق ، اس کا انعام سات سوگنا تک یا اس سے بھی زیادہ دیا جاتا ہے۔ حدیث کے مذکورہ الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم ایسا کرو گے تو تم کو اس کا اجر ملے گا۔ جس کی کم سے کم مقدار دس گنا ہوگی ۔ صلاة و سلام در اصل پیغمبر کے حق میں ایک مومن کی طرف سے اعتراف کا کلمہ ہے۔ جس کا اعتراف جتنا شدید ہوگا، اتناہی اس کا اجر بڑھتا جائے گا۔ وسیلہ کا یہ مفہوم قرآن وحدیث کے متن سے بالکل واضح ہے۔ مگر اُس کو سمجھنے کے لیے ایک لازمی شرط ہے، وہ یہ کہ آدمی اپنے روایتی شاکلہ (traditional mindset) کو توڑے ۔ وہ خالص علمی انداز میں کھلے ذہن کے ساتھ قرآن وحدیث کا موضوعی (objective) مطالعہ کرے ۔ وسیلہ کی مذکورہ تشریح کو سمجھنے کے لیے اس شرط کو پورا کرنا ضروری ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2012 All issues

Printed page