Al-Risala · June 2012 · page

صلوٰۃ و سلام

الرسالہ، جون ۲۰۱۲

کہیں اور سے نہیں مل سکتی تھیں۔ ایک مومن کو جب اس حقیقت کا شعور حاصل ہوتا ہے تو اس کے اندر رسول اللہ کے لیے گہرے اعتراف کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور پھر اس کی زبان سے بے اختیارانہ طور پر وہ الفاظ نکل جاتے ہیں جن کو صلاۃ وسلام کہا جاتا ہے۔

درود کلمہ فضیلت نہیں ہے، درود کلمہ اعتراف ہے۔ ایک شخص پیدا ہو کر اس دنیا میں آتا ہے۔ وہ جاننا چاہتا ہے کہ میں کیا ہوں اور یہ کائنات کیا ہے۔ موت سے پہلے کیا ہے اور موت کے بعد کیا۔ کامیابی کیا ہے اور ناکامی کیا۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر ان سوالات کا جواب معلوم کرنا چاہتا ہے، مگر کہیں بھی اس کو ان سوالات کا مستند جواب نہیں ملتا۔

آخر کار، وہ اس دریافت تک پہنچتا ہے کہ پیغمبر آخر الزماں کے ذریعے جو دین انسان کو دیا گیا ہے، وہی اس سوال کا حقیقی جواب ہے۔ یہ دریافت اس کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اعتراف کے جذبے سے سرشار کر دیتی ہے۔ یہ جذبہ اعتراف جب لفظوں میں ڈھلتا ہے تو اسی کا نام صلاۃ وسلام ہے۔

درود یا صلاۃ وسلام یہ نہیں ہے کہ کچھ مخصوص الفاظ کو اپنی زبان سے دہرادیا جائے یا اُن کی تکرار کی جاتی رہے۔ یہ رسول کے لیے صلاۃ وسلام کا کم تر اندازہ (underestimation) ہے۔ رسول کے لیے صلاۃ وسلام کا آغاز دریافت سے ہوتا ہے۔

ایک مومن پیغمبر کے اس رول کو دریافت کرتا ہے۔ اس دریافت کے نتیجے میں اس کے اندر اعلیٰ کیفیات پیدا ہوتی ہیں ۔ یہ کیفیات لفظوں میں ڈھل جاتی ہیں، اس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ مومن، پیغمبر کو اپنا رہنما بنا لیتا ہے۔ وہ پیغمبر کے اسوہ (model) کو اختیار کر لیتا ہے ۔ وہ پیغمبر کے مشن میں اپنے آپ کو ہمہ تن لگا دیتا ہے ۔ وہ پیغمبر کے مشن کو اپنا مشن بنا لیتا ہے— یہ تمام چیزیں درود وسلام کا لازمی حصہ ہیں، کچھ چیزیں براہِ راست طور پر اس کا حصہ ہیں اور کچھ چیزیں بالواسطہ طور پر اس کا حصہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2012 All issues

Printed page