صلوٰۃ و سلام
الرسالہ، جون ۲۰۱۲
صلوٰۃ و سلام
قرآن کی سورہ الاحزاب میں ارشاد ہوا ہے: إن الله وملائكته يصلّون على النبى، ياأيها الذين آمنوا صلّوا عليه وسلّموا تسليماً (56 :33) یعنی اللہ اور اس کے فرشتے، نبی پر صلاۃ بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو، تم بھی نبی پر صلاۃ و سلام بھیجو۔
’صلوٰۃ‘ کا لفظ جب اللہ کی نسبت سے بولا جائے تو اس سے مراد رحمت ہوتی ہے۔ اور جب ’صلوٰۃ‘ کا لفظ بندے کی نسبت سے بولا جائے تو اس سے مراد دعا ہوتی ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اپنے رسول پر جس مشن کی ذمے داری ڈالی ہے، اُس میں وہ تنہا نہیں ہے، بلکہ اللہ کی رحمتیں اس کے ساتھ ہیں۔ اللہ کے فرشتے بھی اس مشن میں رسول کی مسلسل تائید کر رہے ہیں۔ یہی کام اہل ایمان کو بھی کرنا چاہئیں۔ اہل ایمان کے دل میں رسول کے لیے بہترین جذبات ہونے چاہیے۔ آیت میں ’صلّوا‘ کے بعد ’وسلّموا تسليماً‘ کے الفاظ ’صلّوا‘ کی مزید تاکید کو بتا رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ پیغمبر کے رول کو بھر پور طور پر دریافت کریں۔ جب وہ اس رول کو شعوری طور پر دریافت کریں گے تو اس کا فطری نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ رسول کے لیے سرتا پا اطاعت بن جائیں گے۔ اُن کے دل میں رسول کے لیے صلاۃ و سلام اور اعتراف کے چشمے جاری ہو جائیں گے، جس کا اظہار بار بار الفاظ کی صورت میں ہوگا۔ یہی مطلب ہے صلاۃ و سلام کے ان الفاظ کا: اللهم صل على محمد وعلى آل محمد، كما صليت على إبراهيم، وعلى آل إبراهيم، إنك حميد مجيد۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے درود کوئی پُر اسرار چیز نہیں۔ یہ دراصل ایک مومن کی طرف سے آپ کے لئے قلبی اعتراف (heartfelt acknowledgement) ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ انسان کو دو انتہائی اہم چیزیں ملی ہیں— ایک مستند خدائی ہدایت نامہ (authentic divine guidance)— اور دوسرا، خدائی ہدایت کا مستند رول ماڈل (authentic role model)۔ یہ دونوں چیزیں رسول کے سوا
‹ Previous page Next page › Contents of June 2012 All issues