Al-Risala · June 2012 · page

عجیب اور سبق آموز

الرسالہ، جون ۲۰۱۲

عجیب اور سبق آموز

والٹرڈی لا میئر(Walter De La Mare) ایک برٹش مصنف ہے۔ وہ 1873 میں پیدا ہوا، اور 1956 میں اس کی وفات ہوئی۔ ڈی لا میئر کی ایک نظم ہے۔ اس کا عنوان مس ٹی (Miss T) ہے ۔ اس نظم کی ایک لائن یہ ہے ۔ یہ بہت زیادہ عجیب بات ہے کہ مس ٹی جو کچھ کھاتی ہے، وہ مس ٹی بن جاتا ہے:

It's a very odd thing—as odd can be— That whatever Miss T eats, turns into Miss T. "مس ٹی‘‘ ایک فرضی نام ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ مس ٹی کے باہر دسترخوان پر مختلف قسم کے کھانے ہیں ۔ پھل، سبزی، چاول، دال، وغیرہ ۔ یہ چیزیں جب تک باہر ہیں، وہ مختلف غذائی آئٹم ہیں۔ لیکن جب مس ٹی ان چیزوں کو کھاتی ہے تو وہ اُس کے اندر داخل ہو کر اُس کے وجود کا حصہ بن جاتی ہیں۔

یہ تبدیلی (conversion) کا ایک واقعہ ہے، جب کہ ایک مادی چیز تبدیل ہو کر ایک شخص کے جسم کا جز بن جاتی ہے۔ تبدیلی کے اس واقعے کا ایک اور پہلو ہے۔ یہ پہلو شعور سے تعلق رکھتا ہے۔ ایک باشعور آدمی جب یہ سوچتا ہے کہ یہ مادی چیزیں کیسے بنیں، کیوں ایسا ہے کہ دو بے ظاہراً الگ الگ چیزوں میں کامل مطابقت پائی جاتی ہے۔ کس طرح یہ ممکن ہوا کہ یہ تمام چیزیں انسان کے لئے لائف سپورٹ سسٹم (life-support system) کا ذریعہ بن گئیں۔

جب ایک شخص اس طرح سوچتا ہے تو تخلیق کی معنویت (meaningfulness) کو دریافت کرتا ہے۔ وہ تخلیق میں خالق کو دیکھ لیتا ہے ۔ یہی وہ تجربہ ہے جو انسان کے لیے ذہنی اور روحانی ارتقا کا ذریعہ ہے ۔ مادی چیزیں انسان کے باہر صرف مادی چیزیں ہیں، لیکن انسان کے ذہن میں آکر وہ شعوری ارتقا میں ڈھل جاتی ہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2012 All issues

Printed page