دعوتِ قرآن
الرسالہ، جون ۲۰۱۲
دعوتِ قرآن
قرآن کی سورہ مریم میں قرآن کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: لتبشّر به المتقين (19: 97) یعنی قرآن اس لیے اتارا گیا ہے کہ وہ اہلِ تقویٰ کے لیے بشارت ثابت ہو۔ بشارت کا مطلب اچھی خبر (good news) ہے۔ قرآن ، خدا کی ایک مستند کتاب ہے۔ قرآن تمام انسانوں کو ایک اچھی خبر دینے والا ہے۔ وہ اچھی خبر یہ ہے کہ انسان اگر دنیا کی محدود زندگی میں حسنِ عمل کا طریقہ اختیار کرے تو وہ موت کے بعد کی زندگی میں ابدی جنت میں جگہ پائے گا۔
یہ اچھی خبر اِن افراد کے لیے ہے جو دنیا کی زندگی میں تقویٰ کی روش اختیار کریں۔ جنت عمومی طور پر ہر انسان کو نہیں ملے گی، وہ صرف اْس انسان کو ملے گی جو دنیا کی زندگی میں تقویٰ کا ثبوت دے (3: 133)۔ جنت کی معیاری دنیا میں جگہ پانے کی شرط صرف ایک ہے، اور وہ تقویٰ ہے۔ قرآن کی مذکورہ آیت کے مطابق، جنت کی بشارت متقی انسانوں کے لیے ہے۔ متقی کا لفظی مطلب ہے—ڈرنے والا یا بچنے والا۔ ڈرنا یا بچنا کیا ہے، یہ دراصل حساسیت (sensitivity) کا ایک ظاہر ہ ہے۔ جب آدمی کسی چیز کے بارے میں، بہت زیادہ باشعور ہو جائے تو فطری طور پر وہ اس کے بارے میں بہت زیادہ حساس (sensitive) ہو جاتا ہے۔ انسان کی زندگی میں سب سے بڑا رول اِسی حساسیت کا ہے۔ آدمی جس چیز کے بارے میں حساس نہ ہو، وہ اس کو نظر انداز کرے گا، اور جس چیز کے بارے میں وہ حساس ہو، وہ چیز اس کا کنسَرن (concern) بن جائے گی۔ عین اپنے مزاج کے مطابق، اْس کو وہ سب سے زیادہ قابلِ توجہ سمجھنے لگے گا۔
قرآن کا پیغام یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو ڈسٹریکشن سے بچائے۔ وہ اپنے شعور کو اتنا زیادہ بیدار کرے کہ اپنی زندگی میں خدا کی اطاعت ہی اُس کا سب سے بڑا کنسَرن (sole concern) بن جائے، کوئی دوسری چیز اس کی حساسیت کا مرکز نہ بنے۔
ایسے آدمی کا حال کیا ہوگا، اُس کو قرآن میں مختلف مقامات پر بتایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن
‹ Previous page Next page › Contents of June 2012 All issues