امتِ مسلمہ کا احیا
الرسالہ، جون ۲۰۱۲
امتِ مسلمہ کا احیا
کرب بھرا جو بیٹڈ کر کھایا تھا میر تھا اک شخص، زہد جو جھکا تم لوگو کے آگے کچھ بچے ایک جگہ بیٹھ کر کھیل رہے تھے۔ ایک شخص نے پوچھا کہ تم لوگ کیا کر رہے ہو۔ بچوں نے کہا کہ جھوٹ موٹ کھچڑی پکا رہے ہیں۔ پوچھنے والے نے کہا کہ جب جھوٹ موٹ ہی پکانا ہے تو کھچڑی کیوں پکاؤ، پلاؤ پکاؤ۔
یہ لطیفہ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں پر پوری طرح صادق آتا ہے۔ موجودہ زمانے کا ہر رہنما احیائے ملت کی باتیں کرتا ہے، مگر اُن کا احیائے ملت کا تصور رومانی خواب کے سوا کچھ اور نہیں۔ یہ سب کے سب رہنما ایسی چیزوں کو اپنا نشانہ بنائے ہوئے ہیں جو کبھی وقوع میں آنے والی نہیں۔ یہ رہنما عام طور پر درج ذیل قسم کے خوش نما الفاظ بولتے ہیں:
(Revival of Muslim Civilization) مسلم تہذیب کا احیا (Revival of Muslim Empire) مسلم ایمپائر کا احیا (Revival of Muslim Khilafah) مسلم خلافت کا احیا (Revival of Muslim Glory) مسلم عظمت کا احیا (Revival of Muslim History) مسلم تاریخ کا احیا یہ نشانے سب کے سب قومی نشانے ہیں اور قومی نشانے کبھی اس دنیا میں پورے نہیں ہوتے، کیوں کہ قومی نشانوں کو کبھی خدا کی مدد حاصل نہیں ہوتی۔ مسلم امت کا نشانہ صرف ایک ہے، اور وہ دعوت الی اللہ ہے۔ قرآن اور حدیث میں اس کو ”شہادت علی الناس“ کہا گیا ہے، یعنی اللہ کے پیغام کو اس کے بندوں تک پہنچانا۔ یہی دعوت الی اللہ امت مسلمہ کا واحد مشن ہے۔ یہ مشن اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک غیر سیاسی مشن ہے، اور اپنے طریق کار کے اعتبار سے، پوری طرح ایک پرامن مشن (peaceful mission)۔ اس دعوتی مشن کے لیے اللہ کی طرف سے یقینی نصرت کا وعدہ ہے۔ یہ مشن تمام انسانوں کے لیے ہے، نہ کہ کسی خاص قوم کے لیے۔
ن کے ہیں
‹ Previous page Next page › Contents of June 2012 All issues