Al-Risala · June 2012 · page

مسئلہ داخلی ہے، نہ کہ خارجی

الرسالہ، جون ۲۰۱۲

حامل بن جاتے ہیں۔ پہلے اگر ان کے دلوں میں دوسروں کے لیے خیر خواہی کا جذبہ ہوتا تھا، تو اب ان کے دل دوسروں کے خلاف نفرت اور شکایت کا جنگل بن جاتے ہیں۔ پہلے اگر ان کے اندر صبر وتحمل کے اوصاف تھے، تو اب ان کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر مشتعل ہو کر لڑنے لگتے ہیں۔ حدیث میں کراهيۃ الموت‘ کا لفظ آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بعد کے زمانے کے مسلمان موت سے ڈرنے لگیں گے۔ اس کا ثبوت موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی حالت ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں پر اب وہ وقت مسلّمہ طورپر آچکا ہے جس کی پیشین گوئی حدیث میں کی گئی تھی۔ لیکن اسی کے ساتھ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ وہ موت سے بالکل بے خوف ہو گئے ہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں میں بڑے پیمانے پر ان کی مسلح تنظیمیں قائم ہیں۔ ان مسلح تنظیموں میں مسلمان بڑی تعداد میں شریک ہیں۔ وہ جگہ جگہ جہاد کے نام پر مسلح کلچر چلائے ہوئے ہیں۔ بالا کوٹ کے شہیدوں اور علماء ہند کی قربانیوں سے لے کر موجودہ فلسطین اور افغانستان تک ہر جگہ مسلمان بڑے پیمانے پر مسلح کلچر چلائے ہوئے ہیں، حتیٰ کہ وہ بے خوف ہو کر خود کش بم باری کرتے ہیں۔ وہ جگہ جگہ پر تشدد مظاہرے کرتے ہیں، خواہ اس کے جواب میں اُن کو فریقِ ثانی کی طرف سے بندوق کی گولیوں کا سامنا کرنا پڑے۔ ایسی حالت میں ’’کراہیّتِ موت‘‘ کی تشریح یہ نہیں ہو سکتی کہ مسلمان بعد کے دور میں لڑنا مرنا چھوڑ دیں گے۔ اس کا اصل مطلب یہ ہے کہ بعد کے دور کے مسلمانوں میں دینی زوال کے نتیجے میں مبنی بر موت سوچ ختم ہو جائے گی، آخرت رخی زندگی کا حقیقی تصور اُن کے اندر باقی نہیں رہے گا۔ موت سے وابستہ حقائق ، جنت اور جہنم اور فکرِ آخرت جیسی چیزیں ان کی شخصیت کا حصہ نہیں رہیں گی۔ اس حدیثِ رسول سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ’’ہیبت‘‘ کا تعلق تعداد سے نہیں ہے، بلکہ کردار سے ہے۔ تعداد خواہ کتنی ہی زیادہ ہو، وہ مسلمانوں کے لیے عزت و وقار کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ اُس کے لیے ضروری ہے کہ مسلم افراد میں حقیقتِ موت کا شعور پیدا کیا جائے، جس کا دوسرا نام آخرت رخی سوچ ہے۔ آخرت رخی سوچ ہی سے افراد میں وہ اعلیٰ کردار بنتا ہے جو اُن کو لوگوں کے درمیان عزت و وقار کا درجہ عطا کرتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2012 All issues

Printed page