Al-Risala · June 2012 · page

سوسائٹی کی نسبت سے فرد کی ذمے داری

الرسالہ، جون ۲۰۱۲

دے ول ڈوآٹ اسپرٹ(They will do it spirit) کے ساتھ سماج میں رہنا۔ ان دونوں طریقوں میں بہت زیادہ فرق ہے۔ جس سماج کے افراد آئی ول ڈوآٹ اسپرٹ (I will do it spirit) کے ساتھ رہیں، وہ سماج ترقی کرے گا۔ اس کے ہر شعبے درست طور پر کام کریں گے۔ اس کے برعکس، جس سماج کے افراد دے ول ڈوآٹ اسپرٹ (They will do it spirit) کے ساتھ رہیں، وہ سماج غیر ترقی یافتہ سماج ہوگا۔ ایسے سماج کے ہر شعبے بگاڑ کا شکار ہو جائیں گے۔ آئی ول ڈوآٹ (I will do it) ذمے دار شخصیت کی علامت ہے اور دے ول ڈوآٹ (They will do it) غیر ذمے دار شخصیت کی علامت۔ سماجی رسپانسبلٹی کا تصور ہر فرد کو ڈیوٹی کانشس (duty-conscious) بناتا ہے۔ ایسے سماج میں ہر فرد اس کا گور ممبر (giver member) بن کر رہنے کی کوشش کرتا ہے، نہ کہ صرف ٹیکر ممبر (taker member)۔ اس کے برعکس، جس سماج میں لوگوں کے اندر رسپانسبلٹی کا احساس نہ ہو، وہاں کا ہر فرد رائٹ کانشس (right-conscious) بن جائے گا۔ ایسے سماج کا ہر فرد، سماج سے اپنے لیے لینا چاہے گا، لیکن خود سماج کو دینے کی اسپرٹ اس کے اندر موجود نہ ہوگی۔

رسپانسبلٹی پر مبنی سماجی اخلاقیات کی معقولیت کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ سماج اپنے وسیع تر مفہوم میں، ہر فرد کو بہت زیادہ دے رہا ہے۔ کوئی فرد سماج کو جو کچھ دیتا ہے، وہ اُس سے بہت کم ہے جو اُس کو سماج سے مل رہا ہے۔ کوئی فرد اگر پورے معنوں میں سماج کا گور ممبر بن جائے، تب بھی سماج کے لیے اُس کا عطیہ ایک فی صد سے بھی کم ہوگا، جب کہ سماج نے اس کو جو کچھ دیا ہے، وہ 99 فی صد سے زیادہ ہے۔ اس لیے کسی فرد کے لیے سماجی اخلاقیات میں کوتاہی کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ اس اصول کی اہمیت اسلام میں اتنی زیادہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ـــ جو شخص انسان کا معترف نہ ہو، وہ خدا کا معترف بھی نہیں ہو سکتا (من لم يشكر الناس، لم يشكر الله)۔

سوسائٹی صرف اُس قریبی مجموعہ انسانیت کا نام نہیں ہے جہاں ایک فرد پیدا ہوتا ہے، بلکہ سوسائٹی ایک طویل سلسلہ تاریخ کا نام ہے۔ سوسائٹی کا دائرہ، پہلے انسان (آدم) سے لے کر، آج کے انسان تک پھیلا ہوا ہے۔ اس پورے مجموعہ انسانیت نے اپنی لمبی تاریخ کے دوران جو کچھ کیا ہے، اس کو

‹ Previous page Next page › Contents of June 2012 All issues

Printed page