Al-Risala · June 2012 · page

سوسائٹی کی نسبت سے فرد کی ذمے داری

الرسالہ، جون ۲۰۱۲

تہذیب کا ارتقا کہا جاتا ہے۔ تہذیب کے اس ارتقا میں ہر فرد اپنا حصہ پا رہا ہے۔ آج ایک فرد جس مہذب دنیا (civilized world) میں رہ رہا ہے، وہ دنیا ہمیشہ سے موجود نہ تھی۔ وہ پوری انسانیت کی لمبی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔

ایک وقت تھا کہ انسان اپنے پیروں پر چلتا تھا، پھر لمبے تجربے کے بعد انسان نے پہیہ بنایا۔ اس طرح، انسان کے لیے پاؤں پر چلنے کے بجائے گاڑی سے چلنے کا دور شروع ہوا۔ پھر انسان نے لمبے تجربے کے بعد کشتی بنائی۔ اس طرح دریاؤں اور سمندروں کو بحفاظت پار کرنے کا دور شروع ہوا۔ پھر لمبے تجربے کے بعد انسان نے اسٹیم پاور دریافت کیا۔ اس کے بعد ریلوے ٹرین اور اسٹیم شپ کا دور شروع ہوا۔ پھر انسان نے لمبے تجربے کے بعد کار بنائی اور انسان تیز رفتاری کے ساتھ سفر کرنے کے دور میں پہنچا۔ پھر انسان نے لمبے تجربے کے بعد ہوائی جہاز بنایا۔ اس طرح یہ ممکن ہو گیا کہ انسان فضا میں تیز رفتاری کے ساتھ اُڑ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچے اور جنگل اور پہاڑ اور سمندر اور بستیاں کوئی بھی چیز اُس کے سفر میں رکاوٹ ثابت نہ ہوں۔

یہ انسانیت کی جدوجہد کے صرف ایک پہلو کی چھوٹی سی مثال ہے۔ اس طرح پورا مجموعہ انسانیت ہزاروں سال تک مسلسل جدوجہد کرتا رہا، یہاں تک کہ لاکھوں کی تعداد میں زندگی کے بے شمار سامان وجود میں آئے، جن کے مجموعے کو تہذیب (civilization) کہا جاتا ہے۔ موجودہ تہذیب کو وجود میں لانے میں پورے مجموعہ انسانیت کا حصہ ہے۔ ایک سوئی (needle) سے لے کر ایک ترقی یافتہ شہر تک، ہر چیز میں براہِ راست طور پر پوری انسانیت کی مجموعی جدوجہد اور قربانی شامل ہے۔ یہی وہ تاریخی حقیقت ہے جو انسانی رسپانسبلٹی کی اخلاقی بنیاد ہے۔ جب ایک فرد اس حقیقت کو دریافت کرتا ہے کہ آج وہ جس ترقی یافتہ دنیا میں رہ رہا ہے، اُس کو وجود میں لانے کے لیے پوری انسانیت اس میں شریک ہے، اِس معاملے میں وہ پوری انسانیت کا مقروض ہے۔ جب ایک شخص اِس تاریخی حقیقت کا اعتراف کر کے اس کے مطابق، زندگی گزارے تو اسی کا نام سوسائٹی کے حق میں اپنی ذمے داری کو ادا کرنا ہے۔ گویا کہ انسانی رسپانسبلٹی ایک اعتبار سے، پوری نوعِ انسانی (mankind) کے

‹ Previous page Next page › Contents of June 2012 All issues

Printed page