ایک سبق آموز واقعہ
الرسالہ، جون ۲۰۱۲
اشیاء صرف (consumer goods) میں اضافے کے لیے بہت بڑے پیمانے پر ایک نیا نظام وضع ہوا۔ یہ بینکوں سے اندھا دھند قرض کا نظام تھا۔ لوگوں کو یہ موقع دیا گیا کہ وہ نقد خریداری کا انتظار نہ کریں، بلکہ بینکوں سے سودی قرض لے کر وہ حسب خواہش جو چیز چاہیں، حاصل کریں — اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قدیم زمانے کا مبنی بر ضرورت سماج (need-based society) ختم ہو گیا اور اس کی جگہ مبنی بر حرص سماج (greed-based society) وجود میں آیا۔
مگر یہ سادہ معاملہ نہ تھا۔ اس کے نتیجے میں وہ بھیانک مسئلہ پیدا ہوا جس کو ضرورت سے زیادہ کاربن اخراج (carbon emission) کہا جاتا ہے۔ جدید صنعتی دور سے پہلے بھی کاربن کا اخراج ہوتا تھا، لیکن وہ فضا کے اندر جذب ہو جاتا تھا اور انسان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں بنتا تھا۔ لیکن جدید صنعتی نظام اور بڑھے ہوئے کنزیومرزم کی بنا پر وہ مصنوعی مسئلہ پیدا ہوا ہے جس کو گرین ہاؤس گیس (greenhouse gas) کہا جاتا ہے، یعنی فضا میں مضر گیس کا نقصان دہ حد تک بڑھ جانا: The problem of the gradual rise in temperature of the earth's atmosphere, caused by an increase of gases, such as carbon dioxide in the air surrounding the earth, which trap the heat of the sun. فطرت کو تحقیق کا موضوع بنانا ایک خالص علمی اور نظری کام تھا۔ یہ کام خواہ کتنا ہی زیادہ کیا جائے، اس سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا، مگر جدید صنعت کے ظہور کے بعد معیارِ زندگی میں مصنوعی اضافہ اور اشیاء صرف کے اندھا دھند استعمال کے نتیجے میں وہ مسائل پیدا ہوئے جن کو ماحولیاتی مسائل کہا جاتا ہے۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ فطرت کی تحقیق کو لامحدود طور پر جاری رکھتے ہوئے صنعتی سرگرمیوں پر کنٹرول قائم کیا جائے۔
سوال
الرسالة مشن کو سمجھنے کے لیے اردو زبان کی اہمیت کیا ہے، اس کو واضح فرمائیں۔ (عظیم الدین، لکھنؤ) جواب ہمارے دعوتی مشن سے جو لوگ جڑے ہوئے ہیں، اُن لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو
‹ Previous page Next page › Contents of June 2012 All issues