Al-Risala · June 2012 · page

ایک سبق آموز واقعہ

الرسالہ، جون ۲۰۱۲

انگریزی کتابوں یا ٹی وی اور نیٹ پر میری تقریروں کے ذریعے ہمارے دعوتی مشن سے متعارف ہوئی ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ الرسالہ مشن کو پوری طرح جاننے کے لیے ماہ نامہ الرسالہ کا مسلسل مطالعہ بہت ضروری ہے۔ جو لوگ اردو جانتے ہیں، ان کے لیے ماہ نامہ الرسالہ ایک طاقت ورذہنی غذا کی حیثیت رکھتا ہے، وہ ان کے لیے مسلسل طور پر ذہنی ارتقا کا ذریعہ ہے۔

افراد کے پاس یہ عذر ہے کہ ہم اردو نہیں جانتے یا اردو کم جانتے ہیں، مگر یہ کوئی عذر نہیں۔ اصل ضرورت شوق کی ہے۔ اگر شوق ہو تو اردو زبان سیکھنا کچھ بھی مشکل نہیں۔ مثلاً مہاراشٹر یہ (ناندیڑ) کے کشن جیونت راؤ پٹیل کے ایک دوست عثمان چاوش (وفات: 2006) تھے۔ انھوں نے مسٹر کشن پٹیل کو الرسالہ کے کچھ مضامین پڑھ کر سنائے۔ ان مضامین کوسن کر کشن راؤ پٹیل کے اندر اتنا زیادہ شوق پیدا ہوا کہ انھوں نے مسلسل محنت کر کے اردو زبان سیکھ ڈالی۔ اب وہ الرسالہ کے مسلسل قاری ہیں۔ تاریخ میں اس نوعیت کی بہت سی مثالیں ہیں۔ مثلاً مولانا عنایت رسول چریا کوٹی (وفات: 1902) نے بائبل کو عبرانی زبان میں پڑھنے کے لیے عبرانی زبان سیکھی۔ شری آروبندو گھوش (وفات: 1950) نے رابندر ناتھ ٹیگور (وفات: 1941) کی کتاب ’’گیتا نجلی‘‘ کو بنگلہ زبان میں پڑھنے کے لیے بنگلہ زبان سیکھی۔ آج کل لوگ جاب کے لیے کثرت سے انگریزی فرانسیسی اور جرمن پرے لے جائیے، منہ رُہا سُن کر زُبان سیکھ رہے ہیں، وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2012 All issues

Printed page