امریکا کا سفر
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۲
امریکا کا سفر
امریکا(USA) کے لیے میرا پہلا سفر نومبر 1983 میں ہوا تھا۔ اس کے بعد بار بار امریکہ کا سفر ہوتا رہا۔ ان سفروں کی روداد ماہ نامہ الرسالہ میں شائع ہو چکی ہے۔ موجودہ سفر جون 2011 میں ہوا۔ اس سفر میں میرے کئی ساتھی میرے ہم راہ تھے۔ اس سفر کی مختصر روداد ذیل میں درج کی جاتی ہے۔ یہ سفر امریکہ میں مقیم الرسالہ مشن سے وابستہ گروپ کی دعوت پر ہوا۔ اس گروپ کے صدر خواجہ کلیم الدین صاحب ہیں۔ اس سفر کے لیے تقریباً ایک سال سے کلیم الدین صاحب کا اصرار تھا۔ 15 جون 2011 کو یہ سفر شروع ہوا، اور 6 جولائی 2011 کو سفر سے واپسی ہوئی۔ 15 جون 2011 کی شام کو ہم لوگ دہلی ایئر پورٹ پر پہنچے۔ میں وہاں ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ میرے ساتھی فوراً ہی دعوتی سرگرمیوں میں مشغول ہو گئے۔ انھوں نے ایئر پورٹ کے عملہ (staff) کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا۔ اُن کا طریقہ یہ تھا کہ وہ اپنے ہاتھ میں کتاب لے کر یہ کہتے ہوئے لوگوں کو پیش کرتے۔ یہ آپ کے لیے ایک اسپرپچول گفٹ ہے:
This is a spiritual gift for you.
ایئر پورٹ کے مراحل سے گزرتے ہوئے ہم لوگ جہاز کے اندر داخل ہوئے۔ یہ ایئر انڈیا کا جہاز تھا جو درمیان میں رکے بغیر دہلی سے نیو یارک (امریکا) جاتا ہے۔ جہاز کے اندر میرے ساتھیوں نے اپنا دعوتی مشن جاری رکھا۔ انھوں نے جہاز کے اندر کئی لوگوں کو دعوتی لٹریچر دیا۔ جہاز کے پائلٹ اور جہاز کے عملہ کو بھی قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ جہاز کے اندر ایک ہندوائر ہاسٹس کو ہمارے ساتھی نے قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا۔ اس نے کہا کہ اس سے پہلے حج کی فلائٹ میں ایک مسلمان نے مجھ کو قرآن کا عربی نسخہ دیا تھا۔ میں بہت چاہتی تھی کہ میں انگریزی زبان میں قرآن کا ترجمہ پڑھوں۔ آج قرآن کا انگریزی ترجمہ پا کر مجھ کو بہت خوشی ہورہی ہے۔ مذکورہ ایئر ہاسٹس جب قرآن لے کر گئی تو ایک دوسری ایئر ہاسٹس آئی۔ اس نے ہمارے
‹ Previous page Next page › Contents of January 2012 All issues