Al-Risala · January 2012 · page

This is a spiritual gift for you.

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۲

ساتھی سے کہا کہ مجھے بھی قرآن کی ایک کاپی چاہیے۔ اس نے ہمارے ساتھی کا نام پوچھا۔ ’’رجت ملہوترا‘‘ نام سن کر اس کو تعجب ہوا۔ اس نے مسٹر رجت ملہوترا (Rajat Malhotra) سے کہا کہ آپ کیسے قرآن دے رہے ہیں۔ مسٹر رجت نے کہا کہ میں سی پی ایس انٹرنیشنل (نئی دہلی) کا ایک ممبر ہوں۔ سی پی ایس کے تحت ہم، لوگوں کوپیں اور اسپرچولٹی کا پیغام پہنچارہے ہیں۔ ائیر انڈیا کی فلائٹ دہلی سے نیویارک کے لیے براہ راست فلائٹ ہے۔ دہلی سے نیویارک کا فاصلہ تقریباً 12 ہزار کلومیٹر ہے۔ یہ 15 گھنٹے کی فلائٹ تھی۔ کچھ لوگوں نے دہلی میں کہا تھا کہ یہ آپ کے لیے ایک ٹائرسَم (tiresome) سفر ہوگا۔ مگر جہاز کے اندر نیند آگئی۔ اس کی وجہ سے وقت بہ آسانی گزر گیا۔ نیند انسان کے لیے ایک عجیب نعمت ہے، سفر میں بھی اور حضر میں بھی۔ قرآن میں اس حقیقت کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: و جعلنا نومکم سباتاً (78: 9) یعنی ہم نے نیند کو بنایا تمھاری تکان رفع کرنے کے لیے۔

راستے میں جہاز کے اندر مختلف اخبارات برائے مطالعہ موجود تھے۔ دہلی سے چھپنے والے ایک اخبار میں یہ خبر تھی کہ ہماچل پردیش کے ایک اہم علاقے میں ایک وی آئی پی (VIP) کی بیٹی کو گھر بنانے کے لیے زمین دی گئی۔ چوں کہ عام قانون کے تحت یہ زمین نہیں دی جاسکتی تھی، اس لیے قانون میں تبدیلی کرکے ان کو یہ زمین دی گئی۔

یہ عام بات ہے کہ ماں باپ اپنی اولاد کی فرمائش کو رد نہیں کرپاتے۔ ماں باپ اسی کو محبت سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی اولاد کو فیور (favour) دیتے رہیں۔ مگر یہ ایک تباہ کن مزاج ہے۔ بچوں کے بگاڑنے کا سب سے بڑا سبب بلاشبہ اسی قسم کی نام نہاد پدرانہ شفقت ہے۔ انڈیا کے بڑھے ہوئے کرپشن کا سب سے بڑا سبب یہی اولاد نوازی ہے۔

جہاز فضا میں بلند ہوکر 35 ہزار فٹ کی بلندی پر تیزی سے پرواز کرنے لگا۔ کوئی زمینی سواری اس طرح تیزی سے نہیں چل سکتی، کیوں کہ بار بار راستے میں مختلف قسم کی رکاوٹیں آتی ہیں جو اس کے سفر کو کھنڈت کرتی رہتی ہیں۔ لیکن ہوائی جہاز کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ تمام رکاوٹوں سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2012 All issues

Printed page