الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲
انسانی تاریخ کی تعبیر (Interpretation of Human History)
تاریخ کیا ہے، تاریخ گزرے ہوئے ماضی کی سرگزشت کا دوسرا نام ہے۔ تاریخ کے موضوع پر جو کتابیں لکھی جاتی ہیں، وہ عام طور پر گزرے ہوئے واقعات کا ریکارڈ ہوتی ہیں۔ لیکن تاریخ کا ایک ضمنی موضوع وہ ہے جس کو فلسفہ تاریخ (philosophy of history) یا تعبیر تاریخ (interpretation of history) کہا جاتا ہے۔ اس موضوع کا مقصد یہ ہے کہ تاریخ انسانی کے واقعات کی ایک ایسی توجیہہ تلاش کی جائے جس میں مختلف واقعات کے درمیان ایک قابل فہم ربط دریافت کیا جاسکے۔ تاریخ کے پہلے موضوع (تاریخ نگاری) پر بڑی تعداد میں کتابیں موجود ہیں، لیکن جہاں تک تعبیر تاریخ کے موضوع کا تعلق ہے، اس موضوع پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کو تاریخ کی قابل فہم توجیہہ قرار دیا جاسکے۔
اس کا سبب ڈاکٹر الکسس کیرل نے اپنی کتاب ”انسان نامعلوم“ (Man the Unknown) میں درست طور پر یہ بتایا ہے کہ تعبیر تاریخ کا موضوع براہِ راست طور پر انسان کی آزادی سے تعلق رکھتا ہے۔ انسان قابل پیشین گوئی نہیں، اس لیے اس کے عمل کی کوئی جامع توجیہہ بھی ممکن نہیں۔ ہر انسان آزاد ہے کہ وہ جو چاہے کرے اور جو چاہے نہ کرے، اس لیے انسانی تاریخ کی مجموعی تعبیر سخت مشکل کام ہے۔
اصل یہ ہے کہ انسان کی تاریخ دو متضاد تقاضوں کے درمیان سفر کرتی ہے۔ ان دونوں تقاضوں کو آزادی اور جبر (freedom and determinism) کہا جاسکتا ہے۔ میرے علم کے مطابق، کوئی مورخ ان دو متضاد تقاضوں کے درمیان ربط قائم کرنے کا کوئی اصول دریافت نہ کرسکا، اس لیے وہ انسانی تاریخ کی کوئی کامیاب تعبیر بھی پیش نہ کرسکا۔
راقم الحروف نے اس موضوع پر کافی غور وفکر کیا اور تعبیر تاریخ کا اصول دریافت کرنے کی
‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues