الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲
کوشش کی ۔ آخرکار مجھے قرآن کی ایک آیت میں یہ اصول دریافت ہوا۔ وہ آیت یہ ہے: و علی اللہ قصد السبیل و منہا جائر، و لو شاء لہدیکم اجمعین (9: یعنی اللہ کے اوپر ہے (انسانیت کو) صراط مستقیم پر قائم رکھنا، اور کچھ راستے منحرف راستے ہیں۔ اور اگر اللہ چاہتا تو وہ سارے انسانوں کو ہدایت دے دیتا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے منصوبہ تخلیق (creation plan) کے مطابق، انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کو میچ (manage) کر رہا ہے۔ خدا، انسان کو آزادی بھی دئے ہوئے ہے اور اسی کے ساتھ وہ اس کی نگرانی بھی کر رہا ہے کہ انسانی قافلہ بھٹک کر صراط مستقیم سے بہت دور نہ چلا جائے۔ تاریخ کے بارے میں اس خدائی اصول کو ایک لفظ میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کی تنظیم کرنا:
It is to manage history while maintaining human freedom. تاریخ اور تعبیر تاریخ تاریخ سادہ طور پر واقعہ نگاری (narration of events) کا نام ہے۔ تعبیر تاریخ (interpretation of history) کا تعلق فلسفہ تاریخ سے ہے، یعنی اُن قوانین کو دریافت کرنا جو تاریخ کے عمل میں کام کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں مختلف نظریات پیش کئے گئے ہیں، مگر یہ تمام نظریات محض انسانی قیاس پر مبنی ہیں۔ تاریخ کی صحیح تعبیر وہ ہے جو انسان کے بارے میں خالق کے نقشہ تخلیق (creation plan) کے مطابق ہو۔
قدیم زمانے میں بادشاہ کو تاریخ کا مرکزی کردار سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے تاریخ عملاً بادشاہوں کی تاریخ بن گئی۔ یورپ کی نشأۃ ثانیہ کے بعد دنیا میں جمہوریت کا دور آیا۔ اب تاریخ کا مرکزی کردار فرد کے بجائے سوسائٹی کو سمجھا جانے لگا۔ اب سماجی افکار کی روشنی میں تاریخ لکھی جانے لگی۔ اس میں ایک نمایاں نام جرمن مفکر کارل مارکس (وفات: 1883) کا ہے۔ مارکس نے تاریخ کا ایک نیا تصور پیش کیا جس کو تاریخی مادیت کہا جاتا ہے۔ یہ تصور تاریخ بنیادی طور پر یہ تھا کہ انسان کا شعور تاریخ کی
‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues