America is at war with Islam
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۲
فلیڈیلفیا میں ہماری قیام گاہ جس روڈ پر تھی، اس کے سامنے سڑک کی دوسری طرف ایک وسیع کمپلیکس تھا۔ یہ کمپلیکس خصوصی طور پر سینئر سٹی زن کے لیے مخصوص تھا۔ اس کے سامنے وسیع لان تھا۔ اس لان میں فوارہ تھا اور کرسیاں پڑی ہوئی تھیں۔ ہمارے ایک ساتھی ٹہلتے ہوئے وہاں تک پہنچ گئے اور لان کے کنارے واک کرنے لگے۔ کچھ دیر کے بعد اندر سے ایک آدمی آیا اور اس نے نرم لہجے میں کہا: You know, this is private property. اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ جگہ صرف اُن لوگوں کے لیے ہے جو یہاں رہتے ہیں، باہر والوں کے لیے نہیں۔ امریکی معاشرہ بہت زیادہ رائٹ کانشس (right-conscious) معاشرہ ہے۔ ان کے یہاں حقوقِ انسانی کا جو تصور ہے، اس میں کسی کے پرائیویٹ دائرہ میں داخل ہونا جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ چناں چہ کمپلیکس کے بیرونی حصے میں اس مضمون کے بورڈ جگہ جگہ لگے ہوئے تھے : Trespassers will be prosecuted. پرائیویسی (privacy) کا یہ اصول پُر عافیت زندگی کے لیے بہت اچھا ہے، لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس میں انٹریکشن (interaction) کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے اور انٹریکشن ذہنی ارتقا کے لیے بہت ضروری ہے۔
18 جون 2011 کو فلیڈیلفیا کے سینٹ پال چرچ میں جو پروگرام ہوا تھا، اس میں مسٹر لاری سنائڈر (Larry Snider) بھی موجود تھے۔ انھوں نے سوال وجواب میں حصہ لیا تھا اور میری تقریر پر پسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔ اس کے بعد 23 جون 2011 کی شام کو وہ اپنی اہلیہ ڈانا (Donna) کے ساتھ میری قیام گاہ پر ملاقات کے لیے آئے۔ اُن سے دیر تک گفتگو ہوئی۔ پھر ان کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دوسری اسلامی کتابیں برائے مطالعہ دی گئیں۔ اس کو انھوں نے خوشی کے ساتھ قبول کیا۔ ہم لوگوں سے ملاقات کر کے مسٹر لاری سنائڈر بہت متاثر ہوئے۔ چناں چہ بعد کو انھوں نے فلیڈیلفیا کے ایک مقامی نیوز پیپر (بکس کاؤنٹی ٹائمز) میں ’’اسلام اور پیں‘‘ کے موضوع پر ایک مضمون شائع کیا۔ مسٹر لاری سنائڈر کا یہ مضمون اگلے صفحات میں نقل کیا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2012 All issues