Al-Risala · July 2012 · page

The Whig Interpretation of History

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲

مزدور اپنے ملکوں کی سرمایہ دار حکومتوں کا ساتھ نہیں دیں گے، بلکہ وہ عالمی مزدور طبقہ (class) کا ساتھ دیں گے، مگر عملاً ایسا نہیں ہوا۔ ہر ملک کے مزدوروں نے خود اپنے ملک کی حکومتوں کا ساتھ دیا۔ اس طرح تاریخی مادیت یا جدلیاتی مادیت کا نظریہ اپنے پہلے ہی تجربے میں ختم ہو گیا۔ اسی طرح کچھ اور اہل علم نے انسانی تاریخ کو ایک تعبیر دینے کی کوشش کی۔ مگر عملاً وہ بھی کنفیوژن کا شکار ہو کر رہ گئے۔ اس کی ایک مثال کیمبرج کے پروفیسر ایچ بٹرفیلڈ (H. Butterfield) کی ہے۔ انھوں نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے جو 146 صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب 1931 میں لندن سے چھپی ہے۔ اس کتاب کا نام یہ ہے:

The Whig Interpretation of History

اس کتاب میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ کسی یونی ورسل مارل کوڈ (universal moral code) کی روشنی میں پوری تاریخ کو ایک اخلاقی تعبیر دی جائے، مگر خود مصنف نے یہ اعتراف کیا ہے کہ تاریخ کی عملی تصویر کے مطابق ، اس قسم کی تعبیر ممکن نہیں۔

اسی طرح ایک مثال مشہور برطانی رائٹر جارج برناڈ شا (وفات: 1950) کی ہے۔ اس سلسلے میں اس کی ایک کتاب مین اینڈ سپر مین‘ (Man and Superman) ہے۔ اس کتاب میں اُس نے مفروضہ ارتقائی اصول کی روشنی میں تاریخ کی ایک تعبیر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اُس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان لازمی ارتقائی قانون کے مطابق، بشر (man) سے فوق البشر (superman) کی طرف سفر کر رہا ہے۔ مگر اس کا یہ نظریہ صرف ایک خیالی کہانی ہے۔ خالص علمی اعتبار سے اس کا کوئی وزن نہیں۔ منفی تصور تاریخ انسانی تاریخ کے بارے میں عام طور پر اہل علم کا نقطۂ نظر منفی ہوتا ہے۔ مثلاً مشہور انگریز مورخ ایڈورڈ گبن (Edward Gibbon) نے لکھا ہے کہ - انسانیت کی تاریخ جرائم، حماقت اور بدقسمتی کے رجسٹر سے کچھ ہی زیادہ ہے:

History, which is, indeed, little more than the register of crimes, follies and misfortunes of mankind.

‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues

Printed page