Al-Risala · July 2012 · page

معیارِ تاریخ

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲

مگر اُن کا نشانہ خدا کے تخلیقی منصوبے کے خلاف تھا، اِس لیے وہ کبھی واقعہ نہ بن سکا۔ خدا کا تخلیقی نشانہ یہ نہیں ہے کہ موجودہ دنیا میں معیاری نظام (ideal system) وجود میں لایا جائے، بلکہ خدا کا تخلیقی نشانہ یہ ہے کہ معیاری افراد وجود میں آئیں۔ اِس قسم کے معیاری افراد تاریخ میں بکھرے ہوئے ہیں۔ آخِرت میں یہ ہوگا کہ اِن افراد کو منتخب کرکے اُنھیں جُنت کی معیاری دنیا میں بسادیا جائے گا۔ تعبیر تاریخ کی مثالیں تاریخ کی تعبیر (interpretation of history) ایک مُستقل سبجکٹ ہے، مگر اِس موضوع پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں، وہ سب کی سب کنفیوژن کا کیس ہیں۔ میرے علم کے مطابق، کوئی بھی شخص اِس موضوع پر اب تک ایسی کتاب نہ لکھ سکا جس میں انسانی تاریخ کی قابلِ فہم تعبیر پیش کی گئی ہو۔ اِس موضوع پر سب سے زیادہ نمایاں نام غالباً کارل مارکس (وفات: 1883) کا ہے۔ اِس نے بطور تاریخ کی ایک متعین تعبیر دینے کی کوشش کی۔ مارکس کی اِس تعبیر تاریخ کو مادی تعبیر تاریخ (material interpretation of history) یا تاریخی مادیت (historical materialism) کہا جاتا ہے۔ کارل مارکس نے یہ کیا کہ اِس نے نیوٹن کے دریافت کردہ قانونِ فطرت (law of nature) کو انسانی تاریخ پر منطبق کر دیا، مگر مارکس کی یہ تعبیر تاریخ پہلی ہی نسل میں اہلِ علم کے درمیان قابلِ رد قرار پاگئی۔ انسان ایک صاحبِ اختیار مخلوق ہے۔ اِس کے برعکس، مادہ کوئی ذاتی اختیار نہیں رکھتا۔ ایسی حالت میں ایک کے قانون کو دوسرے کے اوپر چسپاں کرنا قیاس مع الفارق ہے، جو کہ عملاً ممکن نہیں۔ پہلی عالمی جنگ (1918-1914) کا واقعہ اِس مارکسی نظریے کی عملی آزمائش تھا۔ یہ نظریہ اِس پہلی ہی آزمائش میں مکمل طور پر رد ہو گیا۔ اِس کی تفصیل یہ ہے کہ مشہور کمیونسٹ لیڈر ولادمیر لینن (وفات: 1924) نے 1919 میں کمیونسٹ انٹرنیشنل (comintern) قائم کی۔ اُس کا نظریہ تھا کہ ساری دنیا کے مزدور ایک طرف ہیں اور تمام دنیا کے سرمایہ دار ایک طرف۔ اِس کے بعد 1939 میں دوسری عالمی جنگ شروع ہوئی ۔ یہ جنگ جن ملکوں کے درمیان ہوئی، اُن ملکوں کے سربراہ مارکسی تصور کے مطابق، سرمایہ دار طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ مارکسی تصور کے مطابق، یہ فرض کر لیا گیا کہ اِن ملکوں کے

‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues

Printed page