The Whig Interpretation of History
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲
حصول ممکن نہیں، لیکن یہ عین ممکن ہے کہ انسانوں کی بھیڑ میں ایسے معیاری افراد وجود میں آتے رہیں جو اپنی ذات کی سطح پر سچائی کو دریافت کریں اور اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال لیں، یہی استثنائی افراد خالق کو مطلوب ہیں۔ یہی مطلب ہے انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے مطلوب کے مطابق، تاریخ کو مینج (manage) کرنے کا۔
خالقِ کائنات کی یہ اسکیم قرآن کے مطالعے سے واضح طور پر معلوم ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی سورہ النساء کی دو آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: ”اور جو شخص اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا، وہ اُن لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام کیا ہے، یعنی نبی اور صدیق اور شہید اور صالح۔ کیسی اچھی ہے اُن کی رفاقت۔ یہ فضل ہے اللہ کی طرف سے، اور اللہ کا علم کافی ہے“۔ (70-69 :4) قرآن کے اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کون سے منتخب افراد ہوں گے جن کے مجموعے سے جنت کا معاشرہ وجود میں آئے گا۔ ان افراد کو بتانے کے لیے یہاں چار الفاظ استعمال کئے گئے ہیں— نبی، صدیق، شاہد، صالح۔ نبی سے مراد صاحب وحی انسان (revealed person) ہے۔ صدیق سے مراد وہ انسان ہے جو حق کے ساتھ اپنے آپ کو اتنا زیادہ وابستہ کرے کہ اس کو پیغمبر کے ساتھ مزاجی مناسبت حاصل ہو جائے۔ شہید یا شاہد سے مراد وہ انسان ہے جس کی زندگی میں حق اتنا زیادہ متشکل ہو جائے کہ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ لوگوں کے درمیان حق کا گواہ بن جائے۔ صالح سے مراد وہ انسان ہے جس کی زندگی میں فکر وعمل کی مطابقت کامل درجے میں پائی جائے۔ بنیادی طور پر یہی چار قسم کے افراد ہیں جن کے مجموعے سے وہ معیاری معاشرہ تشکیل پائے گا جس کو جنت کہا جاتا ہے۔ ان افراد کا تعلق کسی ایک زمانے یا کسی ایک معاشرے سے نہیں ہوگا، بلکہ وہ مختلف غیر معیاری معاشروں کے منتخب کئے ہوئے افراد ہوں گے۔ خالق کی اس اسکیم کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس دنیا میں صرف انفرادی کامیابی (individual achievement) ممکن ہے۔ جہاں تک اجتماعی کامیابی (social achievement) کا تعلق ہے، وہ امتحان کی اس دنیا میں سرے سے ممکن ہی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues