The Whig Interpretation of History
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲
موجودہ دنیا میں درست روش پر قائم ہونے کے لئے مثبت ذہن ضروری ہے۔ مگر مثبت ذہن کے ساتھ جینا کوئی سادہ بات نہیں۔ مثبت ذہن کے ساتھ جینے کے لئے آدمی کو ایک لازمی امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔ وہ ہے دو متضاد رجحانات کو مینج (manage) کرتے ہوئے زندگی گزارنا۔ اصل یہ ہے کہ آدمی پیدائشی طور پر ایک معیار پسند مخلوق ہے، مگر عملاً اس کو ایک غیر معیاری دنیا میں رہنا پڑتا ہے۔ اس حقیقت سے شعوری طور پر باخبر ہونا بہت ضروری ہے۔ ورنہ یہ ہوگا کہ اس کا معیار پسند ذہن دنیا کے غیر معیاری تجربات کی بنا پر رد عمل کا شکار ہوتا رہے گا اور نتیجہ وہ مثبت ذہن سے محروم ہو جائے گا، اور مثبت ذہن سے محروم ہونا ہر چیز سے محروم ہونے کے ہم معنی ہے۔ آدمی کو شعوری طور پر یہ جاننا چاہیے کہ اس کا معیار پسند ذہن اس لئے ہے کہ وہ جنت کی معیاری دنیا کا طالب بنے، نہ یہ کہ وہ اسی موجودہ دنیا میں جنتی زندگی یا جنتی معاشرہ کو حاصل کرنے لگے۔ موجودہ دنیا جنتی انسان بنانے کے لئے ہے، نہ کہ جنتی معاشرہ بنانے کے لئے۔ جو آدمی شعوری طور پر اس راز کو جان لے کہ موجودہ دنیا میں اس کو اپنے اندر جنتی شخصیت کی تعمیر کرنا ہے وہ کامیاب ہوا۔ اور جو آدمی موجودہ دنیا ہی کو جنتی دنیا بنانے کی کوشش میں لگ جائے، وہ ناکام و نامراد رہا۔ کیوں کہ موجودہ دنیا میں جنتی شخصیت بننا تو ممکن ہے، مگر جنتی نظام بننا ممکن نہیں۔ تاریخ کی خدائی تنظیم قرآن میں تاریخ کا جو تصور پیش کیا گیا ہے، اس کے مطابق، انسانی تاریخ آدم سے شروع ہوتی ہے، جو کہ پہلے انسان (first man) تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اور ان کی بیوی حوا کو پیدا کر کے اُنھیں جنت میں آباد کیا۔ خدا کی طرف سے اُن کو صرف ایک ہدایت دی گئی تھی، وہ یہ کہ: اے آدم، تم اور تمھاری بیوی دونوں جنت میں رہو اور اس سے کھاؤ آسودگی کے ساتھ، جہاں سے چاہو۔ اور اس درخت کے قریب مت جانا، ورنہ تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے“۔ (35: 2)
آدم کے ساتھ ان کی بیوی کو پیدا کرنے میں اس بات کا اشارہ تھا کہ انسان کی پیدائش سے اللہ تعالیٰ کو جو چیز مطلوب ہے، وہ صرف ایک انسانی فرد نہیں، بلکہ ایک انسانی نسل ہے۔ انسان کے لیے
‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues