The Whig Interpretation of History
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲، صفحہ ۲۱
مگر انسانوں کی بڑی تعداد ایسا نہ کرسکی۔ اللہ کی عبادت کا معاملہ ناقابل مشاہدہ (unobservable) ہستی کو معبود بنانے کا معاملہ تھا۔ انسان نے اپنی ظاہر پرستی کی بنا پر نیچر کو اپنا معبود بنالیا، جو کہ اس کے لیے ایک قابل مشاہدہ (observable) معبود کی حیثیت رکھتا تھا۔ اسی نیچر ورشپ کا دوسرا نام شرک ہے۔
پیغمبروں کی آمد کے باوجود انسان کے لیے آزادیٔ اختیار (freedom of choice) کا موقع بدسر باقی تھا۔ اس لیے انسان پیغمبروں کا انکار کرتا رہا۔ یہ معاملہ نسل در نسل جاری رہا، یہاں تک کہ شرک انسان کے لیے غالب کلچر بن گیا، تاریخ میں شرک کا تسلسل قائم ہوگیا۔ مشرکانہ کلچر کے عمومی غلبہ کا مزید نتیجہ یہ ہوا کہ وقت کی حکومتوں نے شرک کو اسٹیٹ کے مذہب کے طور پر اختیار کر لیا۔ اس طرح شرک کو ہر جگہ سیاسی طاقت کی سرپرستی حاصل ہوگئی۔ پہلے اگر شرک سادہ معنوں میں ایک اعتقادی برائی تھی تو اب وہ ایک طاقت ور برائی بن گئی۔ مشرکانہ اقتدار کا کلچر بڑھتا رہا، یہاں تک کہ وہ برائی پیدا ہوئی جس کو فرانسیسی مورخ ہنری پرین نے مطلق شہنشاہیت (absolute imperialism) کا نام دیا ہے۔
شرک کی اسی سیاسی سرپرستی کے نتیجے میں وہ جارحانہ مذہبیت پیدا ہوئی جس کو تاریخ میں، مذہبی جبر (religious persecution) کہا جاتا ہے۔ سیاسی حاکموں نے ایسا ماحول قائم کیا جس کے نتیجے میں لوگوں کے لیے صرف ایک ہی آپشن باقی رہا، اور وہ مشرکانہ مذہب تھا۔ تو توحید کا مذہب اختیار کرنے والوں کے لیے یہ انجام مقدر ہوگیا کہ وہ یا تو ریاست کے مذہب کو اختیار کر لیں، یا وہ قتل کردئے جائیں۔ دورِ قدیم کی یہی وہ صورت حال ہے جس کی طرف قرآن کی سورہ البروج کی آیات (8: 4-85) میں اشارہ کیا گیا ہے۔
اس صورت حال سے یہ واضح ہو گیا کہ اب مذہب حق کا صرف اعلان کافی نہیں ہے۔ اب پہلی ضرورت یہ ہے کہ مذہب کو سیاسی اقتدار سے جدا کر دیا جائے، تاکہ انسان کے لیے آزادی کے ساتھ اپنے عقیدے کا فیصلہ کرنا ممکن ہو جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues