The Whig Interpretation of History
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲
جنت کا مستحق ہونے کی شرط صرف ایک تھی، یہ کہ وہ خود انضباطی کردار (self-disciplined character) کا پابند رہے، وہ آزادی کا غلط استعمال نہ کرے ۔ مگر آدم اور حوا اس شرط پر پورے نہیں اترے ۔ اس لیے انھیں جنت سے نکال کر سیارہ ارض پر آباد کر دیا گیا۔
اس کا مطلب یہ تھا کہ پہلے انسان کو یہ موقع دیا گیا تھا کہ انسان عمومی بنیاد (general basis) پر جنت میں رہے، یعنی ہر پیدا ہونے والے عورت اور مرد کو جنت کی زندگی حاصل ہو۔ لیکن جب انسان اس اعتماد پر پورا نہیں اتراتو اس کے بعد اللہ نے یہ فیصلہ کیا کہ انسان کی آزادی تو برقرار رہے گی، لیکن اب عمومی بنیاد پر نہیں، بلکہ انتخابی بنیاد پر صرف مستحق افراد کو جنت میں داخلہ دیا جائے گا۔ یہ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کو خدا کی طرف سے مینج (manage) کرنے کا پہلا واقعہ تھا۔ موجودہ زمین اس تخلیقی مقصد کے لیے سلیکشن گراؤنڈ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اب یہ ہوگا کہ قیامت کے بعد فرشتوں کے ریکارڈ کے مطابق، صرف منتخب عورتوں اور مردوں، قرآن کے الفاظ میں احسن العمل (67:2) افراد کو، یہ خوش نصیبی حاصل ہوگی کہ وہ جنت کی معیاری دنیا میں آباد ہوسکیں۔ زمین پر لائف سپورٹ سسٹم کا انتظام تو خدا کی طرف سے کیا گیا تھا، مگر انسان کو اپنے قول و عمل کی مکمل آزادی حاصل تھی، لیکن دوبارہ انسان نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا۔ دھیرے دھیرے یہ ہوا کہ عمومی طور پر انسانی نسل شرک یا فطرت پرستی (nature worship) میں مبتلا ہوگئی۔ گویا کہ پہلے انسان نے ”درخت“ کا صرف پھل کھایا تھا، اب انسان نے ”درخت“ کو معبود قرار دے کر اس کی پرستش شروع کردی۔
تاہم منصوبہ تخلیق (creation plan) کے مطابق، یہ ممکن نہیں تھا کہ انسان کی آزادی کو منسوخ کردیا جائے، اس لیے اللہ نے انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے اس کو مینج (manage) کرنے کا طریقہ اختیار کیا۔ اللہ نے یہ کیا کہ انسانوں میں سے کسی فرد کو منتخب کر کے اُس کو اپنا پیغمبر بنایا۔ اُس کو وحی (revelation) کے ذریعے اپنی رہنمائی بھیجی۔ ان پیغمبروں نے انسانوں کو بتایا کہ عبادت کے قابل صرف ایک اللہ ہے۔ تم ایک اللہ کی عبادت کرو اور خود ساختہ معبودوں کی عبادت چھوڑ دو۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues