حضرت نوح کا رول
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲
کسی قوم کو عذاب دینے کا واقعہ تاریخ میں کئی بار پیش آیا ہے، لیکن ایک عظیم سیلاب کے ذریعے عذاب دینے کا واقعہ صرف ایک بار پیش آیا۔ یہ واقعہ بھی خدا کی طرف سے تاریخ کی تنظیم سے تعلق رکھتا ہے۔ اس بنا پر یہ ممکن ہوا کہ کشتی میں سوار اہل ایمان دور کے علاقے میں پہنچ جائیں۔ چناں چہ یہی بچے ہوئے اہل ایمان تھے جن کی وجہ سے دنیا کے مختلف حصوں میں انسان کی آبادیاں قائم ہوئیں۔ حضرت نوح کے زمانے تک انسان کی نسل صرف میسوپوٹامیا (عراق) کے محدود علاقے میں پائی جاتی تھی، لیکن طوفانِ نوح کے بعد انسان کی نسل زمین کے مختلف حصوں میں پھیل گئی۔ تاریخ کے دو دھارے قرآن کے بیان کے مطابق، انسانی تاریخ کے آغاز ہی سے انسانی زندگی کے دو دھارے بن گئے— ایک، اتباع ابلیس کا دھارا، اور دوسرا، اتباع ملائکہ کا دھارا۔ زندگی میں ہمیشہ مثبت اور منفی دونوں قسم کے پہلو موجود ہوتے ہیں۔ اتباع ابلیس یہ ہے کہ آدمی مثبت پہلو کو نظر انداز کر کے منفی پہلو کو اختیار کرے۔ اس کے برعکس، اتباع ملائکہ یہ ہے کہ آدمی منفی پہلو کو نظر انداز کر کے مثبت پہلو پر فوکس کرے ۔ پوری انسانی تاریخ اسی دو قسم کے اتباع کی کہانی ہے۔ ایک روش کو اتباع ابلیس کا کلچر کہہ سکتے ہیں اور دوسری روش کو اتباع ملائکہ کا کلچر۔
خالق نے انسان کو مکمل آزادی دے دی ہے، خواہ اس آزادی کی بنا پر بگاڑ کی وہ صورت پیدا ہو جائے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ظہر الفساد فی البر والبحر بما کسبت أيدى الناس (30: 30)، مگر خالق نے انسان کی آزادی منسوخ نہیں کی، البتہ خالق نے اس کا اہتمام کیا کہ اصل مقصد تخلیق میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ خالق نے انسان کو آزادی بھی دے دی ہے اور اسی کے ساتھ وہ تاریخ کو اس طرح مینج (manage) کر رہا ہے کہ مجموعے کی سطح پر بگاڑ کے باوجود مطلوب افراد کی پیدائش کا سلسلہ برابر جاری رہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو تاریخ کی معنویت کو واضح کرتا ہے۔ تاریخ میں ایسے انسانوں کی مثالیں کم ہیں جنھوں نے اپنی آزادی کا صحیح استعمال کیا۔ زیادہ مثالیں وہ ہیں، جب کہ انسان نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا۔ بظاہر یہ تاریخ کی ایک منفی تصویر ہے،
‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues