حضرت نوح کا رول
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲
مگر اس منفی تصویر کا بھی ایک مثبت پہلو ہے، وہ یہ کہ اسی ماحول کے دوران وہ حالات پیدا ہوتے ہیں جب کہ انسانوں کا امتحان لے کر مطلوب افراد کا انتخاب کیا جا سکے۔ مزید یہ کہ یہ نظام مطلق معنوں میں شر نہیں ہے، بلکہ اس میں خیر کا بھی ایک پہلو پایا جاتا ہے، وہ یہ کہ آزادی کی بنا پر جب ایسا ہوتا ہے کہ ہر آدمی اپنی اپنی سرگرمیاں جاری کرتا ہے تو اس سے لوگوں کو طرح طرح کی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوگوں کو طرح طرح کے نقصانات پیش آتے ہیں۔ یہ سب گویا ایک طرح کا شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) ہوتا ہے۔ اس طرح کے ناخوش گوار تجربات کی بنا پر افراد کے اندر وہ ذہنی سرگرمیاں جاری ہوتی ہیں جس کو نفسیات کی اصطلاح میں برین اسٹارمنگ (brain storming) کہا جاتا ہے۔ نفسیاتی مطالعے کے مطابق ، یہی برین اسٹارمنگ ہر قسم کی ذہنی ترقیوں کا ذریعہ ہے۔ معتدل حالات میں آدمی بڑے بڑے کام نہیں کرتا۔ بڑے بڑے کام صرف اُس وقت کئے جاتے ہیں، جب کہ غیر معتدل حالات پیدا ہوں۔ غیر معتدل حالات کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر شدید قوتِ عمل جاگتی ہے۔ اس کے اندر شدید محرک (strong incentive) پیدا ہوتا ہے۔ یہی شدید محرک تمام بڑے بڑے واقعات کو رونما کرنے کا سبب ہے۔
مثلاً صلیبی جنگوں کے ذریعے وہ حالات پیدا ہوئے جن کے ذریعے اہل یورپ میں نیچر کی طاقتوں کی دریافت کا شدید جذبہ پیدا ہوا۔ پہلی عالمی جنگ کے زمانے میں اسی طرح کا شدید جذبہ پیدا ہوا، جس کے نتیجے میں ہوابازی (aviation) کو ترقی ہوئی۔ اسی طرح دوسری عالمی جنگ کے زمانے میں وہ شدید محرک پیدا ہوا جس کی بنا پر کمیونیکیشن کو ترقی ہوئی، وغیرہ۔ نئی منصوبہ بندی منصوبہ تخلیق کے مطابق، یہ ممکن نہیں تھا کہ انسان کی آزادی کو منسوخ کیا جائے ۔ اس لیے اب اللہ تعالیٰ نے تاریخ میں بالواسطہ طور پر ایک دخل دیا۔ اللہ نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک ایسا گروہ پیدا کیا جائے جو مذہب اور سیاسی اقتدار کو ایک دوسرے سے الگ کر دے، تاکہ انسانی تاریخ اپنے صحیح رخ پر سفر کر سکے، بغیر اس کے کہ انسانی آزادی کو منسوخ کیا گیا ہو۔ اس نئے منصوبے کا مقصد یہ تھا کہ
‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues