مشرق سے مغرب کی طرف
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲، صفحہ ۳۳
جس کو نشاة ثانیہ (Renaissance) کہا جاتا ہے۔ اب اسپر پھول کروسیڈس نے مزید ترقی کر کے نیچرل کروسیڈس (natural crusades) کی حیثیت اختیار کر لی۔
مغرب میں اسپر پھول کروسیڈس اور نیچرل کروسیڈ ابتداءً منفی ذہن کے تحت پیدا ہوئی ۔ مغربی قوموں کو جس چیز نے ابتداءً متحرک کیا تھا، وہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے خلاف ہتھیار کے میدان میں ہاری ہوئی جنگ کو دوبارہ علم کے میدان میں کامیاب بنایا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل مغرب کی اس منفی نفسیات کو محرک (incentive) کے طور پر استعمال کیا۔ اللہ نے اہل مغرب کو اس کا ذریعہ بنایا کہ وہ نیچر میں چھپے ہوئے اسرار کو دریافت کریں اور ایک ایسی دنیا وجود میں لائیں جو اسلامی مشن کے لیے تائید کا ذریعہ ثابت ہو۔ اہل مغرب کے ذریعے یہ تائیدی واقعہ جو اپنی پوری صورت میں بیسویں صدی میں ظہور میں آیا، اس کی پیشگی خبر قرآن کی ایک آیت میں دی گئی تھی: سنريهم آياتنا في الآفاق وفي أنفسهم حتى يتبين لهم أنه الحق (53 :41) یعنی مستقبل میں ہم اُن کو اپنی آیات دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی ۔ یہاں تک کہ اُن کے اوپر یہ آشکارا ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ اہل مغرب کے اس رول کا تذکرہ حدیث میں بھی بطور پیشین گوئی موجود ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں : إن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر (صحیح البخاري، رقم الحديث : 3062) یعنی اللہ اس دین کی تائید فاجر انسان کے ذریعے بھی کرے گا۔ اس حدیث میں ’فاجر‘ کا لفظ سیکولر کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان سیکولر مؤیدین سے مراد مغربی دنیا کے وہ لوگ ہیں جن کی کوششوں سے جدید تہذیب (modern civilization) وجود میں آئی اور اس کے ذریعے آفاق وانفس کی آیات دریافت ہوئیں ۔ اہل مغرب کے اندر انتقام کی جو نفسیات پیدا ہوئی ، وہ فطری طور پر نہایت شدید تھی۔ اس شدید محرک کو اللہ نے رموز فطرت کی دریافت کے لیے استعمال کیا۔
رموز فطرت کی دریافت کا یہ کام ایک بے حد مشکل کام تھا۔ اُس میں اپنے آپ کو ڈیڈی کیٹ (dedicate) کرنے کے لیے نہایت شدید محرک (strong incentive) درکار تھا۔ صلیبی جنگوں میں
‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues