مشرق سے مغرب کی طرف
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲
مطلوب کام کی طرف وہ زیادہ پیش قدمی نہ کر سکے۔
اب خدائی منصوبے کے مطابق، تاریخ میں وہ واقعہ پیش آیا۔ جس کو قرآن کی سورہ محمد میں استبدال قوم (38 : کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ استبدال (replacement) کا مطلب یہ تھا کہ مذکورہ منصوبے کی تکمیل کے لیے مسلمانوں کے بجائے ایک اور قوم کو کھڑا کرنا۔ صلیبی جنگوں (Crusades) کے ذریعے استبدال کا یہی معاملہ پیش آیا۔
خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانے میں یہ واقعہ پیش آیا کہ مسلمانوں نے فلسطین کو مسیحیوں سے چھین لیا اور اُس پر اپنا اقتدار قائم کر لیا۔ فلسطین مسیحی قوموں کے لیے ایک مقدس سرزمین (holy land) کی حیثیت رکھتا تھا۔ چناں چہ مسیحی قومیں اِس قبضے کو کبھی قبول نہ کر سکیں۔ یہ نزاع باقی رہی، یہاں تک کہ یورپ کی مسیحی سلطنتوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ فوجی کارروائی کے ذریعے وہ شام اور فلسطین کے علاقے کو دوبارہ اپنے قبضے میں لے لیں۔
صلیبی جنگوں کا یہ سلسلہ 1095ء میں شروع ہوا۔ تقریباً 200 سال کے اندر دونوں قوموں کے درمیان وقفے وقفے سے 9 بار خوں ریز لڑائیاں ہوئیں، مگر یورپ کی مسیحی سلطنتوں کی متحدہ کوشش کے باوجود اُن کو زبردست ناکامی ہوئی۔ اِس کے بعد وہ اِس نتیجے پر پہنچے کہ مسلح جنگ کے ذریعے مسلمانوں کو شکست دینا اُن کے لیے ممکن نہیں۔ چناں چہ مسیحی قوموں میں ایک نیا ذہن شروع ہوا۔ اِس نئی جدوجہد کا نام اسپرچول کروسیڈ (spiritual crusades) تھا۔ اسپرچول کروسیڈ سے مراد دراصل انٹلیکچول کروسیڈ (intellectual crusades) تھا۔ چناں چہ مسیحی قوموں نے اب اپنی کوششوں کو علمی ترقی کی طرف موڑ دیا۔ یونانی فلسفیوں اور مسلم فلسفیوں کی کتابوں کے ترجمے وسیع پیمانے پر لاطینی زبان میں کئے جانے لگے۔ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ یورپ میں تعلیم اور علمی رسرچ کی سرگرمیاں بڑے پیمانے پر جاری ہوئیں۔ چناں چہ اس کی دو مثالیں یہ ہیں کہ ’’اسپرچول کروسیڈ‘‘ کے سینٹر کے طور پر 1096 میں برطانیہ میں آکسفورڈ یونی ورسٹی قائم ہوئی اور 1209 میں کیمبرج یونی ورسٹی قائم کی گئی، وغیرہ۔ اِس کے بعد چودھویں صدی اور سولھویں صدی کے درمیان یورپ میں وہ انقلاب آیا
‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues