Al-Risala · July 2012 · page

خلافتِ آدم

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲

سمندروں کے ساتھ روشنائی بن جائیں، تب بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں ۔ بے شک اللہ زبردست ہے، حکمت والا ہے ۔ (31:27)

قرآن کی ان آیتوں میں جن لامحدود کلمات الہی کے بیان ہے، وہ صرف بطور خبر نہیں ہے، بلکہ وہ بطور انشاء ہے۔ ان آیتوں میں اشارۃً یہ بات بتائی گئی ہے کہ اللہ کو یہ مطلوب ہے کہ کائنات میں چھپے ہوئے ان کلمات کو دریافت کیا جائے اور ان کو قلم سے لکھا جائے، تا کہ انسان اللہ کی عظمتوں سے واقف ہو اور اعلیٰ درجہ معرفت کے ساتھ الحمد للہ کہہ سکے۔

اللہ کے منصوبے کے مطابق، کلمات اللہ کی دریافت (discovery) اور ان کو قلم بند کرنے کا پراسس (process) موجودہ دنیا میں شروع ہوتا ہے اور آخرت میں دوبارہ جاری رہ کر وہ تکمیل کے منازل طے کرتا ہے۔ موجودہ دنیا میں اس عمل کے ذریعے ظہور میں آنے والے واقعے کا نام انسانی تہذیب (human civilization) ہے۔ جدید انسانی تہذیب اپنی نوعیت کے اعتبار سے، دراصل، فطرت (nature) میں چھپے ہوئے کلمات الہی کو دریافت کرنے ہی کا دوسرا نام ہے۔ یہ عمل ابتدائی طور پر اسی دنیا میں انجام پا چکا ہے اور اسی کا نام جدید تہذیب ہے۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کا ذکر قرآن کی اس آیت میں پیشگی طور پر کیا گیا ہے: سنریہم آیاتنا فی الآفاق وفي أنفسهم حتى يتبين لهم أنه الحق (41:53)۔

کلمات اللہ کے اس دنیوی اظہار کا کام زیادہ تر سیکولر اہل علم نے کیا ہے۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کا ذکر ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: إن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 3062)۔ اس حدیث میں ،،رجل فاجر،، سے مراد موجودہ زمانے کا سیکولر اہل علم ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے غیر معمولی محنت کے ذریعے جدید تہذیب کو وجود دیا ہے جو کہ کلمات اللہ کی جزئی انفولڈنگ (unfolding) کے ہم معنی ہے۔ کلمات اللہ لامحدود ہیں اور موجودہ دنیا کے امکانات محدود۔ اس لیے موجودہ دنیا میں کلمات اللہ کی انفولڈنگ صرف محدود طور پر ہی ہوسکتی ہے۔ کلمات اللہ کی کامل انفولڈنگ کے لیے ایک اور وسیع تر دنیا

‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues

Printed page