Al-Risala · July 2012 · page 38

خلافتِ آدم

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲، صفحہ ۳۸

درکار ہے۔ اسی وسیع تر دنیا کا نام آخرت ہے۔ آخرت میں یہ ہوگا کہ پوری انسانی تاریخ سے، لائق افراد منتخب کئے جائیں گے اور ان منتخب افراد کو آخرت کی ابدی دنیا میں بسایا جائے گا۔ وہاں یہ منتخب افراد کلمات اللہ کی مزید انفولڈنگ کا کام انجام دیں گے۔ یہ انفولڈنگ ابدتک جاری رہے گی، وہ کبھی ختم نہ ہوگی۔ آخرت میں کلمات اللہ کی انفولڈنگ کے ذریعے ایک برتر تہذیب وجود میں آئے گی۔ اس کو خدائی تہذیب (divine civilization) کہا جاسکتا ہے۔ کلمات اللہ کی اس لامحدود انفولڈنگ کو قرآن میں : وأشرقت الأرض بنور ربها (69: 39) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

قرآن کی پہلی سورہ کی پہلی آیت یہ ہے: الحمد لله رب العالمين ۔ یہ حمدِ خداوندی کا ابتدائی درجہ ہے جو موجودہ دنیا میں کلمات اللہ کی جزئی انفولڈنگ کے دوران ادا ہوگا۔ ٹھیک یہی کلمہ (الحمد لله رب العالمين) قرآن کی سورہ الزمر میں آیا ہے (75: 39)۔ سورہ الفاتحہ میں حمد خداوندی کے اُس درجے کا بیان تھا جوکہ دنیا میں کلمات اللہ کی ابتدائی انفولڈنگ کے وقت ادا ہوا۔ اور سورہ الزمر میں اُس حمد خداوندی کا ذکر ہے جو کہ آخرت میں کلمات اللہ کی انتہائی انفولڈنگ کے وقت اہل جنت کی زبان سے ادا ہوگا۔

موجودہ دنیا وہ جگہ تھی جہاں انسان کو تمام چیزیں بقد ر ضرورت دی گئی تھیں (34: 14) ۔ آخرت کی جنت وہ جگہ ہوگی جہاں اس کے باشندوں کو تمام اعلیٰ نعمتیں درجہ اشتہاء (31: 41) میں حاصل ہوں گی۔ آخرت کی جنت میں یہ تمام نعمتیں اس کے باشندوں کو خدائی میزبانی (divine hospitality) کے طور پر حاصل ہوں گی۔ آخرت میں اہل جنت کا سب سے زیادہ محبوب مشغلہ یہ ہوگا کہ وہ لامحدود کلمات اللہ کی بقیہ انفولڈنگ کریں اور ایک برتر تہذیب (super civilization) کو وجود میں لائیں۔ کلمات اللہ کی انفولڈنگ کا یہ کام ابدتک جاری رہے گا۔ اس لیے اہل جنت کا دورِ مسرت بھی ابدتک جاری رہے گا، وہ کبھی ختم نہ ہوگا۔ اسلام کی تاریخ خدا نے انسان کو مکمل آزادی دی ہے۔ اسی کے ساتھ خدا عام تاریخ کو نیز اسلامی تاریخ کو بینچ (manage)

‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues

Printed page