خلافتِ آدم
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲
کر رہا ہے، تا کہ تخلیق کا خدائی مقصد یقینی طور پر حاصل ہوتا رہے۔ خدائی سنت کے مطابق، اس مینج مینٹ کی تکمیل ہمیشہ کچھ افراد کے ذریعے ہوتی ہے۔ اس خدائی مینج منٹ کی چار بڑی صورتیں ہیں: 1- ادارتی رول (institutional role)
2- انقلابی رول (revolutionary role)
3- علمی رول (academic role)
4- انفرادی رول (individual role)
ادارتی رول کی ایک معلوم تاریخی مثال حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہے۔ انھوں نے تقریباً چار ہزار سال پہلے مکہ میں کعبہ (بیت اللہ) کی تعمیر کی۔ یہ کعبہ گویا کہ مذہب توحید کا ایک ادارتی مرکز (institutional centre) ہے۔ کعبہ سارے عالم کے موحدین کا مرکز ہے اور قیامت تک وہ موحدین کا مرکز بنا رہے گا۔
خدا کے دین کی لمبی تاریخ میں پیغمبرِ اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم (وفات: 632 ء) کا رول ایک انقلابی رول ہے۔ آپ نے تاریخ انسانی کو ایک نئے دور میں داخل کیا۔ اس انقلابی عمل میں صحابہ اور تابعین کا رول مددگار رول (supporting role) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس انقلاب کے اثرات تاریخ میں آج تک جاری ہیں اور قیامت تک جاری رہیں گے۔
علمی رول یا اکیڈمک رول کی حیثیت سے محدثین کا نام سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ محدثین نے یہ کیا کہ انھوں نے دینِ خداوندی کے دوسرے مستند ماخذِ حدیث رسول کو اس طرح مدوّن کر دیا کہ وہ بعد کی تمام نسلوں کے لیے خدا کے رسول کی رہنمائی کو جاننے کا قابلِ اعتبار ماخذ بنا۔ ابتدائی دور کے ان محدثین کا زمانہ نویں صدی عیسوی ہے۔
انفرادی رول کی حیثیت سے نمایاں نام اموی خلیفہ عمر بن عبد العزيز (وفات: 720 ء) کا ہے ۔ وہ 717 عیسوی میں بنوامیہ کے خلیفہ منتخب ہوئے جن کا دارالسلطنت دمشق تھا۔ ان کی خلافت کی مدت صرف ڈھائی سال ہے۔ انھوں نے اس مختصر مدت میں ایک بہت بڑا تجدیدی کام کیا، مگر اُن کا
‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues