Al-Risala · January 2012 · page

Islam: A Religion of Peace

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۲

ایک صاحب ماہ نامہ الرسالہ کے قاری ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آپ ولیمہ اور شادی کے مروجہ فنکشن کے خلاف ہیں، تو کیا ہم لوگوں کو اس طرح کے فنکشن میں نہیں جانا چاہیے۔ میں نے کہا کہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ اصولاً میں شادی اور ولیمہ کی دھوم کو اسراف سمجھتا ہوں، اور قرآن کے مطابق، اسراف بلاشبہ ایک شیطانی کام ہے (17: 27)۔ لیکن جب لوگوں کا حال یہ ہو کہ اس مسئلہ کو جانتے ہوئے وہ شادی میں دھوم مچائیں اور اس میں بلائیں تو میرا مسلک یہ ہے کہ دعوتی نقطۂ نظر سے اس میں ہم کو جانا چاہیے۔ ہم وہاں اس طرح جائیں کہ ہمارے پاس دعوتی لٹریچر ہو اور اس کو وہاں تقسیم کیا جائے۔ کیوں کہ جو لوگ وہاں اکٹھا ہوئے ہیں، وہ کسی دوسرے طریقہ سے ہمیں نہیں مل سکتے۔ انھوں نے کہا کہ کیا اس فائدے کے پیش نظر ہم کو بھی اس طرح کے فنکشن کرنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ دوسروں کے فنکشن میں جانا دعوت ہے، اگر ہم خود اس طرح کے فنکشن کریں تو یہ اسراف بن جائے گا۔ ہمیں ایک معاملے اور دوسرے معاملے میں فرق کرنا چاہیے۔

امریکا میں سفر کے دوران بار بار مختلف مقامات سے الرسالہ مشن کے ساتھیوں کے ٹیلی فون مل رہے تھے۔ مثلاً پاکستان سے عبداللطیف صاحب کا، کیلی فورنیا سے ڈاکٹر مزمل صدیقی کا، وغیرہ۔ وہ لوگ برابر سفر کے احوال پوچھتے رہتے تھے۔ یہ ایک نیا ظاہر ہ ہے جو جدید کمیونیکیشن کے ذریعے ممکن ہوا ہے۔ قدیم زمانے میں یہ ممکن نہیں تھا کہ آدمی سفر میں ہو اور دور دراز مقام سے اس کا ربط قائم رہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عجیب نعمت ہے۔ یہ امکان صرف اس لیے پیدا ہوا ہے کہ اللہ کو ماننے والے لوگ ایک منظم منصوبے کے تحت ساری دنیا میں خدا کا پیغام پہنچا سکیں۔

23 جون 2011 کو ہم لوگ باوااا محی الدین فیلو شپ فارم دیکھنے کے لیے گئے ۔ یہ فارم شہر سے دور ایک پہاڑی علاقہ (Chester County) میں واقع ہے۔ یہاں باو محمد محی الدین (وفات: 1986 ) کا مزار واقع ہے۔ باو محی الدین ایک صوفی تھے۔ وہ سری لنکا کے رہنے والے تھے۔ 1971 میں وہ اپنے کچھ مریدین کی دعوت پر امریکا آئے۔ اس کے بعد وہ امریکا ہی میں مقیم ہو گئے۔ یہاں انھوں نے صوفیانہ طرز پر کام شروع کر دیا۔ ان کے مریدوں میں ہر مذہب کے لوگ شامل ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2012 All issues

Printed page