جنت کی دنیا
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲
اور نئے امکانات کے ساتھ ظہور میں آئے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ پہلے دور سے مراد روایتی دور ہے، اور دوسرے دور سے مراد سائنٹفک دور۔
اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول دونوں ہی کا نشانہ ایک ہوگا اور وہ ہے دعوت الی اللہ۔ اس دعوت الی اللہ کے دو بڑے دور ہیں— ایک ہے عالمی کمیونیکیشن سے پہلے کا دور۔ دوسرا ہے، عالمی کمیونیکیشن کے بعد کا دور۔ اصولی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ عالمی کمیونیکیشن کے ظہور سے پہلے جو مواقع تھے، اصحابِ رسول نے اُن کا بھر پور استعمال کیا۔ بعد کو عالمی کمیونیکیشن کے زمانے میں جو مواقع دعوت پیدا ہوں گے، اُن کو جو لوگ بھر پور طور پر استعمال کریں، وہی وہ لوگ ہیں جن کو حدیث میں اخوانِ رسول کہا گیا ہے۔ اخوانِ رسول کسی پر اسرار گروہ کا نام نہیں۔
جنت کی دنیا
انسانی تاریخ ایک عورت اور ایک مرد سے شروع ہوئی، پھر لوگ پیدا ہوتے رہے اور مرتے رہے۔ اس طرح یہ سلسلہ نسل در نسل ہزاروں سال سے قائم ہے۔ اکیسویں صدی کے رُبعِ اوّل میں پورے کُرۂ ارض پر انسانوں کی تعداد سات بلین سے زیادہ ہو چکی ہے۔ اس سے پہلے جو لوگ مرگئے، وہ بھی معدوم نہیں ہوئے، بلکہ وہ آخرت کی دنیا میں بدستور زندہ موجود ہیں۔
جس طرح انسانی تاریخ کا ایک آغاز ہے، اُسی طرح اس کا ایک اختتام بھی ہے۔ انسانی تاریخ کے خاتمے کے بعد ایک اور دنیا بنے گی۔ یہ دنیا کامل معنوں میں ایک معیاری دنیا ہوگی۔ اس معیاری دنیا میں پوری تاریخ کے منتخب افراد آباد کئے جائیں گے۔ قرآن میں اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إن الأرض يرثها عبادي الصالحون (105: 21) یعنی زمین کے وارث میرے صالح بندے ہوں گے۔
یہ حقیقت پچھلی آسمانی کتابوں میں بھی بیان ہوئی ہے۔ موجودہ بائبل میں اس سلسلے میں یہ الفاظ آئے ہیں— بدی کو چھوڑ دے اور نیکی کر اور ہمیشہ تک آباد رہ، کیوں کہ خداوند انصاف کو پسند کرتا ہے اور وہ اپنے مقدسوں کو ترک نہیں کرتا، وہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہیں، پرشریروں کی نسل کاٹ ڈالی جائے گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues