Al-Risala · July 2012 · page 42

جنت کی دنیا

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲، صفحہ ۴۲

صادق زمین کے وارث ہوں گے اور اس میں ہمیشہ آباد رہیں گے:

Depart from evil, and do good; And dwell forevermore. For the Lord loves justice, And does not forsake His saints; They are preserved forever, But the descendants of the wicked shall be cut off. The righteous shall inherit the land, and dwell in it forever. (Psalm 37: 27-29)

قرآن کی بہت سی آیتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں کیسا معیاری ماحول ہوگا اور وہاں ہر قسم کے اعلی سامان وافر مقدار میں موجود ہوں گے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكاً كَبِيرًا (76:20) یعنی تم جہاں دیکھو گے، وہیں عظیم نعمت اور عظیم بادشاہی دیکھو گے:

Wherever you look, you will see bliss and a great kingdom. جنت میں اہل جنت کے لیے جو اعلی انتظامات ہوں گے، اُن کا خلاصہ قرآن کے ان الفاظ میں بیان کر دیا گیا ہے۔ نعیم، اور ملکِ کبیر۔ نعیم سے مراد ہر قسم کی نعمتیں (blessings) ہیں۔ انسان جو کچھ چاہے گا، وہ سب وہاں اُس کے لیے کامل صورت میں موجود ہوگا (32 :41)۔ ملکِ کبیر سے مراد مکمل آزادی ہے، یعنی کسی بھی قسم کی پابندی کے بغیر زندگی گزارنے کا موقع حاصل ہونا۔ اس مکمل آزادی کی نعمت اُن خوش قسمت افراد کو حاصل ہوگی جنھوں نے موجودہ دنیا میں یہ ثبوت دیا تھا کہ وہ آزادی کے باوجود اپنی آزادی کا صرف صحیح استعمال کرنے والے ہیں۔

جنت کی وسعتوں کو بتاتے ہوئے قرآن میں یہ بات آئی ہے: وسار عوا إلى مغفرة من ربكم وجنة عرضها السموات والأرض، أعدت للمتقين (3: 133) یعنی دوڑ و اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اُس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان اور زمین کی طرح ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک اور آیت کے الفاظ یہ ہیں: وقالوا الحمد لله الذي صدقنا وعده، وأورثنا الأرض نتبوأ من الجنة حيث نشاء، فنعم أجر العاملين (39: 74) یعنی اہل جنت کہیں گے کہ شکر ہے اس اللہ کا جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور ہم کو زمین کا وارث بنا دیا، ہم جنت میں

‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues

Printed page