Al-Risala · July 2012 · page

قرآن کا تصورِ تاریخ

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲

جہاں چاہیں، مقام کریں۔ پس کیا خوب بدلہ ہے عمل کرنے والوں کا۔

جنت کی یہ وسعت موجودہ زمانے میں ایک قابل فہم واقعہ بن چکی ہے۔ جدید دور بینوں کے مشاہدے سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ کائنات کی وسعتوں میں ایسے قابل آباد کاری سیارے (habitable planets) بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ صرف ہماری کہکشاں (Milky Way) کے اندر کئی بلین کی تعداد میں اس طرح کے سیارے موجود ہیں۔

اس نئی دریافت کو لے کر غور کیا جائے تو جنت کے بارے میں عجیب قسم کا پراہتزاز تصور (thrilling concept) معلوم ہوتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ غالباً جنت بے شمار ہرے بھرے سیاروں کا ایک کائناتی مجمع الجزائر (universal archipelago) ہے۔ تمام جزیرے اپنی اپنی جگہ پر مکمل دنیائیں ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ انتہائی اعلیٰ قسم کے کمیونیکیشن کے ذریعے باہم جڑے ہوئے ہیں۔ آخرت کے دور میں شاید ایسا ہوگا کہ ہر جنتی کو زندگی گزارنے کے لیے مستقل دنیائیں حاصل ہوں گی ۔ اسی کے ساتھ وہ دوسرے جنتی باشندوں سے معیاری کمیونیکیشن کے ذریعے ہر لمحہ مربوط ہوگا۔ جنت میں ہر قسم کی نعمتیں بھی ہوں گی اور کامل آزادی بھی۔ اسی کے ساتھ جنت گویا اعلیٰ انسانوں پر مبنی ایک کائناتی سماج ہوگا، جہاں ہر انسان کو کامل معنوں میں فل فل مینٹ (fulfilment) حاصل ہوگا۔ ابدی جنت کی یہ ناقابلِ بیان حد تک اعلیٰ نعمتیں اہل جنت کو تمام تر اور یک طرفہ طور پر اللہ کی رحمت کے ذریعے حاصل ہوں گی، لیکن اہل جنت کے اعزاز کے لیے اللہ کی طرف سے یہ اعلان کیا جائے گا کہ: وتلك الجنة التي أورثتموہا بما كنتم تعملون (72 یعنی یہ وہ جنت ہے جس کے تم مالک بنا دئے گئے ہو، اُس عمل کی وجہ سے جو تم کرتے تھے۔

قرآن کا تصورِ تاریخ

قرآن کے بارے میں ایک لمبی حدیث کتابوں میں آئی ہے۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے : كتاب الله، فيه نبأ ما قبلكم، وخبر ما بعدكم (الترمذي، رقم الحديث : 2906) یعنی قرآن الله کی کتاب ہے۔ اس میں تم سے پہلے کے لوگوں کی باتیں ہیں اور اس میں تمھارے بعد کے لوگوں کی

‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues

Printed page