Al-Risala · July 2012 · page

قرآن کا تصورِ تاریخ

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲

اس کشتی کے بارہ میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: فأنـجـيـنـاه وأصحاب السفينة وجعلناها آية للعالمين (29:15) یعنی پھر ہم نے نوح کو اور کشتی والوں کو بچالیا۔ اور ہم نے اس کو دنیا والوں کے لیے ایک نشان بنا دیا۔ قرآن کی ایک اور آیت میں اس واقعے کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے: ولقد تر كناها آية (54:15) اس آیت کا ترجمہ شاہ عبدالقادر دہلوی نے ان الفاظ میں کیا ہے— اور اس کو ہم نے رہنے دیا نشانی کے لیے (We have left it as a sign)

حضرت نوح کا واقعہ ایک پورے دورِ تاریخ سے تعلق رکھتا ہے جو حضرت آدم کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کا ایک نمائندہ جُو کشتی نوح (Noah's Ark) ہے۔ کشتیِ نوح کے بارہ میں قرآن نے بتایا کہ اُس کو اللہ نے عبرت کے طور پر باقی رکھا ہے۔ ساتویں صدی کے ربع اول میں بوقت نزولِ قرآن کسی کو اس کشتی کا علم نہ تھا۔ موجودہ زمانے میں گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں پہاڑوں کے اوپر جمی ہوئی برف بڑے پیمانے پر پگھلنے لگی۔ اس کے بعد ہوائی سروے کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ ترکی کے مشرقی علاقے میں کوہ ارارات (Mount Ararat) کے اوپر وہ کشتی برف کی موٹی تہ کے نیچے دبی ہوئی موجود تھی جو اکیسویں صدی میں سامنے آگئی۔

قرآن میں کشتی نوح کا ذکر مختصر طور پر موجود تھا۔ اب بعد کو دریافت کردہ معلومات کی روشنی میں یہ ممکن ہو گیا کہ تاریخ بشری کے اس باب کو زیادہ تفصیل کے ساتھ مرتب کیا جائے اور اس کو قرآن کی تاریخی تفہیم کے لیے استعمال کیا جائے۔

اس قسم کا ایک اور تاریخی حوالہ وہ ہے جو پیغمبر موسیٰ کے دورِ تاریخ سے تعلق رکھتا ہے۔ تقریباً تین ہزار سال پہلے مصر میں یہ واقعہ ہوا کہ پیغمبر موسیٰ کے معاصر بادشاہ فرعون کو خدا نے بحر قلزم (Red Sea) میں غرق کر دیا۔ اس کے بارے میں قرآن میں یہ آیت آئی ہے کہ بوقتِ غرق اللہ نے فرمایا: فاليوم ننجيك ببدنك لتكون لمن خلفك آية (10:92) یعنی آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے، تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بنے۔

فرعون کا یہ واقعہ بھی ایک پورے دورِ تاریخ کی علامت ہے مگر ساتویں صدی عیسوی میں جب کہ قرآن

‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues

Printed page