Al-Risala · July 2012 · page

قرآن کا تصورِ تاریخ

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۲

نازل ہوا، یہ بات کسی کو معلوم نہ تھی کہ فرعون کی لاش کہاں محفوظ ہے۔ انیسویں صدی کے آخر میں یورپ کے کچھ مستشرقین (orientalists) نے دریافت کیا کہ مذکورہ فرعون کی لاش محفوظ حالت میں اہرام مصر میں موجود ہے۔ اب یہ لاش اہرام مصر سے نکال کر قاہرہ کے میوزیم میں رکھ دی گئی ہے۔ اس واقعے کی تفصیل ڈاکٹر موریس بکائی کی کتاب (The Bible, The Quran and Science) میں دیکھی جاسکتی ہے۔ قرآن نے انسانی تاریخ کا جو تصور دیا ہے، اس کے مطابق، ایسے علامتی واقعات قرآن میں موجود ہیں جن کو مزید معلوم تاریخ کے اضافے سے از اول تا آخر مدون کیا جاسکتا ہے۔ قرآن میں پچھلی تاریخ کے بارے میں علامتی واقعات ملتے ہیں اور بعد کی تاریخ کے بارے میں ایسی پیشین گوئیاں موجود ہیں جو قیامت تک کی پوری تاریخ انسانی کا احاطہ کر رہی ہیں۔ قرآن میں موجود ان تاریخی حوالوں کی حیثیت صرف عنوانات کی ہے۔ ان عنوانات کی روشنی میں اگر دیگر حاصل شدہ معلومات کو شامل کیا جائے، تو اس کے ذریعے قرآن کے تصور تاریخ کے مطابق، انسانی تاریخ کی پوری تصویر بنائی جاسکتی ہے۔ خلاصہ کلام مورخین کے یہاں مختلف قسم کے تاریخی تصورات پائے جاتے ہیں۔ مثلاً خاندانی بادشاہت کے اعتبار سے تاریخ کی تدوین، قوموں کے عروج و زوال کے اعتبار سے تاریخ کی تدوین، مختلف تہذیبوں (civilizations) کے اعتبار سے تاریخ کی تدوین، وغیرہ۔ مگر خدائی تصور تاریخ (divine concept of history) اس سے مختلف ہے۔ خدائی تصور تاریخ کیا ہے، اس کو قرآن کے مطالعے سے سمجھا جاسکتا ہے۔

خدائی تصور تاریخ کے مطابق، اللہ نے انسان کو پیدا کیا۔ اس کے بعد انسان کو یہ موقع دیا کہ وہ توالد و تناسل کے ذریعے اپنی تعداد بڑھائے۔ اس کی نسلیں کرہ ارض (planet earth) کے مختلف حصوں میں آباد ہوں یا غلط استعمال کرے۔ اللہ نے انسان کو مکمل آزادی عطا کی۔ اللہ نے انسان کو یہ موقع دیا کہ خواہ وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرے یا وہ غلط استعمال کرے، وہ زمین میں اصلاح کرے یا وہ زمین میں فساد برپا کرے، وہ اپنی زندگی کو عدل پر قائم کرے یا بے انصافی پر قائم کرے، حتیٰ کہ

‹ Previous page Next page › Contents of July 2012 All issues

Printed page